ایرانی صدر مسعود پز شکیان اسلام آباد پہنچ گئے، وزیراعظم نے پرتپاک استقبال کیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد:ایران کے صدر مسعود پزشکیان دو روزہ دورہ پر پاکستان پہنچ گئے، ان کا طیارہ لاہور ایئرپورٹ پر اترا جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا، مزار اقبالؒ پر حاضری کے بعد وہ اسلام آباد پہنچ گئے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ دو روزہ سرکاری دورے پر لاہور پہنچے جہاں صدر مسلم لیگ ن نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جس کے بعد تینوں شخصیات ایک ہی گاڑی میں ایئرپورٹ سے روانہ ہوئیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کو لاہور ایئرپورٹ پر بچوں نے گلدستے پیش کیے جس پر ایرانی صدر نے بچوں سے اظہار شفقت کیا اور پرتپاک استقبال پر صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر کے استقبال کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر بھرپور تیاری کی گئی تھی، ایئر پورٹ کو پاکستان اور ایران کے پرچموں سے سجایا گیا تھا اور ایرانی صدر کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بھی بچھایا گیا تھا۔
ایرانی صدر کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت کئی وزرا اور اعلیٰ حکام کا وفد بھی آیا ہے۔
ایرانی صدر نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر وزرا بھی اس موقع پر موجود تھے, ایرانی صدر نے مزار اقبال پر فاتحہ پڑھی، پھول رکھے اور کتاب میں تاثرات قلم بند کیے۔
ایرانی صدر مزار اقبال پر حاضری کے بعد اسلام آباد پہنچ گے، جہاں نور خان ایئر بیس پر اترنے کے بعد وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ودیگر نے ان کا پرتباک استقبال کیا، پاک فضائیہ کے جوانوں نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی، وزیراعظم کی جانب سے آج ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت بھی دی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایران کے صدر پہلے سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے ہیں، ایرانی صدر کی آج شام ہی صدر آصف علی زرداری اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
پاکستان کے دورے پر روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا دورے کا مقصد تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا پاکستان کے دورے کے دوران سرحدی سلامتی اور علاقائی امن کے امور زیر بحث آئیں گے، سرحدی منڈیاں اور رابطے باہمی تعاون کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں، کوشش ہے کہ دو طرفہ تجارت کا حجم 10 ارب ڈالر تک پہنچے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا پاکستان اور چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں فعال شرکت کے خواہاں ہیں، ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے ایران کو یورپ سے جوڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا پاک ایران اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔