امن یا کشیدگی: پاکستان بھارت تعلقات کے مستقبل پر نظر ثانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
امن یا کشیدگی: پاکستان بھارت تعلقات کے مستقبل پر نظر ثانی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
تحریر: محمد محسن اقبال
1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد دنیا کے نقشے پر دو خودمختار ریاستیں ابھریں — پاکستان اور بھارت۔ ان دو ممالک کا قیام محض جغرافیائی علیحدگی نہ تھا؛ بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور اکثر معاندانہ تعلق کا آغاز تھا، جو تاریخی رنجشوں اور سیاسی غلط فہمیوں سے جنم لیتا ہے۔ قریباً اسی سال گزر جانے کو ہیں۔ پاکستان اور بھارت اپنی اپنی یوم آزادی منانے میں مصروف عمل ہیں، لیکن ان دونوں ہمسایوں کے درمیان تلخی کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ دنیا کے دیگر خطوں میں قومیں اپنی پرانی دشمنیوں کو شراکت داریوں میں بدل چکی ہیں، مگر بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو وہ کشادہ دلی اور تسلیم کرنے کا رویہ نہیں اپنایا جو ایک پڑوسی کو دوسرے کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔
اول روز سے ہی بھارت کا رویہ پاکستان کے حوالے سے شکوک، مخالفت اور اکثر کھلی دشمنی پر مبنی رہا ہے۔ اعتماد کی بنیاد پر پل تعمیر کرنے کے بجائے، بھارت نے تفریق کی آگ کو مزید بھڑکایا۔ اس رویے کے نتائج نہایت افسوسناک اور دیرپا ثابت ہوئے۔ کئی جنگیں لڑی گئیں، ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، اور ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص وسائل دفاع پر صرف ہونے لگے۔ سب سے تکلیف دہ زخم 1971 میں لگا، جب بھارت نے پاکستان کو توڑنے اور بنگلہ دیش کے قیام میں ناقابلِ انکار کردار ادا کیا۔ یہ واقعہ پاکستانی ذہن و دل پر گہرا نقش ہے اور آج بھی اس بات کی تلخ یاد دلاتا ہے کہ کس طرح جغرافیائی سیاسی دشمنیاں قوموں کو پارہ پارہ کر سکتی ہیں۔
یہ آج کی باہم جُڑی ہوئی دنیا کی ایک افسوسناک اور نایاب حقیقت ہے کہ دو ہمسایہ ممالک، جو جغرافیہ اور مشترکہ تاریخ کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں، ایسی گہری دشمنی میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں سابقہ دشمن ممالک نے صلح و مفاہمت کی راہ اختیار کی ہے۔ یورپ، جو کبھی ہولناک جنگوں کا میدان تھا، آج اتحاد کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا نے علاقائی تعاون کے ذریعے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ حتیٰ کہ ویتنام اور امریکہ جیسے ممالک، جو کبھی شدید جنگ میں ملوث تھے، آج اقتصادی و سفارتی تعلقات قائم کر چکے ہیں۔ لیکن بھارت اور پاکستان آج بھی اربوں ڈالر ہتھیاروں، میزائلوں اور فوجی تیاریوں پر خرچ کر رہے ہیں۔ اقتصادی ترقی اور سماجی بہتری کی طرف بڑھنے کے بجائے، دونوں ممالک اسلحہ کی دوڑ میں الجھے ہوئے ہیں۔
کیا یہ سلسلہ ہمیشہ یونہی چلتا رہے گا؟ کیا ٹکراؤ کے سوا کوئی اور راستہ نہیں؟ یہ سوال ہمیں سنجیدگی اور دیانتداری سے خود سے پوچھنا چاہیے؛کیا کشمیر، پانی کے تنازعات، اور دیگر پرانے مسائل کو مخلصانہ اور بامقصد مکالمے کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جنگیں — جیسے کہ عالمی جنگیں، سرد جنگ، اور ویتنام جنگ — بالآخر مذاکرات کی میز پر ختم ہوئیں۔ وہ قومیں جنہوں نے ناقابلِ بیان تباہیاں سہیں، آخرکار ایک دوسرے سے بات کرنے، سمجھوتہ کرنے اور امن قائم کرنے پر آمادہ ہو گئیں۔ تو کیا یہ بہت زیادہ امید ہے کہ بھارت اور پاکستان بھی ایسی ہی دانشمندی اور پختگی کا مظاہرہ کریں؟
پاکستان کی جانب سے مسائل کو مکالمے کے ذریعے حل کرنے کے بارہا عزم کے باوجود، بدقسمتی سے بھارتی قیادت اکثر انتخابی جذبات اور سیاسی نمائش کے دباؤ میں آ جاتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ اس حقیقت کا سامنا کرے کہ مکالمہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ مکالمے کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں، بلکہ اس کا مطلب دوسرے فریق کی انسانیت کو تسلیم کرنا، شکایات کو سننا، اور قانون، سفارتکاری اور باہمی احترام کے تحت حل تلاش کرنا ہے۔ جب رابطے کے دروازے بند ہوں تو غلط فہمیاں بڑھتی ہیں اور انتہا پسندی کے لیے زمین ہموار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب مکالمے کے دروازے کھلے ہوں، تو امید دوبارہ زندہ ہوتی ہے۔
پاکستان نے بارہا تمام بنیادی مسائل—جن میں کشمیر، سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی کی تقسیم، تجارت، اور سرحد پار دہشت گردی شامل ہیں—پر مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم بھارت نے اکثر ان کوششوں کو یا تو رد کر دیا، یا ایسی پیشگی شرائط عائد کیں جنہوں نے حقیقی مذاکرات کو ناممکن بنا دیا۔ اس جمود کی قیمت سیاستدانوں کو نہیں، بلکہ دونوں طرف کے عام لوگوں کو چکانی پڑتی ہے—پنجاب کے کسانوں، کراچی اور دہلی کے طلبائ، لاہور اور ممبئی کے محنت کشوں کو، جن کا حق ہے کہ وہ بہتر زندگی گزاریں، نہ کہ دشمنی کا ورثہ پائیں۔
معاشی ترقی اس زہریلے سیاسی ماحول کے ہاتھوں دم توڑ رہی ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں اقتصادی انضمام سب سے کم ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت اُس ممکنہ استعداد کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے جو دونوں ممالک رکھتے ہیں۔ اگر تعلقات کو معمول پر لایا جائے، تو دونوں ممالک کی صنعتیں بے پناہ فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ مشترکہ منڈیاں، کم شدہ محصولات (ٹیکس)، اور مشترکہ منصوبے روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں، اور غیر ملکی امداد یا استحصالی قرضوں پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔
معاشیات سے ہٹ کر، دونوں ممالک صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے ذریعے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آج کے دور میں جب بیماریاں سرحدوں کو نہیں مانتیں، اور جب موسمیاتی تبدیلی مون سون کے نظام اور غذائی تحفظ دونوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے، تو مشترکہ تحقیق اور پالیسی کا ہم آہنگی کوئی عیش نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ عوامی صحت، ویکسین کی تیاری، پانی کے انتظام، اور آفات سے نمٹنے جیسے شعبوں میں مشترکہ کوششیں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لا سکتی ہیں۔
تعلیم ایک اور پُل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے طلباء اور محققین تعلیمی تبادلوں میں شریک ہو کر ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور برسوں سے قائم تعصبات کو ختم کر سکتے ہیں۔ میڈیا، ادب اور فنون لطیفہ — جو زبان اور ثقافت کے لحاظ سے پہلے ہی ایک دوسرے سے گہرے طور پر جُڑے ہوئے ہیں — تصادم کے بجائے مفاہمت کے مؤثر ذرائع بن سکتے ہیں۔
لیکن ان تمام امکانات کی جڑیں اُس زمین میں نہیں پکڑ سکتیں جو نفرت سے زہریلی ہو چکی ہو۔ امن کے پھول تبھی کھِل سکتے ہیں جب سیاسی عزم کو پروان چڑھایا جائے۔ دونوں جانب کا میڈیا سنسنی خیزی کو ترک کرے اور امن، مشترکہ قدریں اور انسانیت کے یکساں خوابوں پر مبنی بیانیے کو فروغ دے۔ سول سوسائٹی کو خوف سے بلند ہو کر اپنی قیادت سے ایسا مستقبل طلب کرنا ہوگا جو وراثتی دشمنی سے پاک ہو۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ دشمنی پر ہی مبنی رہیں گے۔ لیکن تقدیر پسندی کوئی پالیسی نہیں، بلکہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ تاریخ ناگزیر حالات سے نہیں، بلکہ فیصلوں سے بنتی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے کہ دانشمندی کے راستے کو چنا جائے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن صرف ممکن ہی نہیں، بلکہ ناگزیر ہے۔ یہ بزدلی نہیں بلکہ جرا?ت کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ گالیوں کا نہیں بلکہ گفت و شنید کا راستہ مانگتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کو تعاون سے جو فائدہ حاصل ہو سکتا ہے، وہ تصادم سے ممکن نہیں۔
یہ دونوں ممالک کا قرض ہے اپنی آنے والی نسلوں پر۔ یہ اُن بے گناہوں کا قرض ہے جو ایسی جنگوں میں مارے گئے جنہیں انہوں نے کبھی چنا ہی نہیں تھا۔ اور یہ اُن لاکھوں افراد کا قرض ہے جو آج بھی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں، تعلیم، صاف پانی، صحت اور عزتِ نفس کے متلاشی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ کیا امن ممکن ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اُسے حاصل کرنے کا عزم رکھتے ہیں؟
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے آذربائیجان کے چیف آف جنرل سٹاف کی ملاقات بی ایل اے بے نقاب: دہشت گردی اور مودی کی پشت پناہی کا گٹھ جوڑ سردار ایاز صادق، جامعہ نعیمیہ اور حلقہ کی تبدیلی واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج آزادی کا مطلب کیا؟ — تجدیدِ عہد کا دن اوورسیز پاکستانی: قوم کے گمنام ہیرو اسلام میں عورت کا مقام- غلط فہمیوں کا ازالہ حقائق کی روشنی میںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔