سیلاب اور بارشوں سے غذائی بحران کا خدشہ، ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
لاہور:
سیلاب کی تباہ کاری اور مسلسل بارشوں نے ملکی فوڈ سیکیورٹی کیلیے خطرات پیدا کر دیے ہیں،چاروں صوبوں میں گندم، آٹا قیمتوں میں ہوشربا اضافہ جاری ہے جبکہ طلب کے مقابلے میں رسد میں کمی آگئی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے گندم، آٹا ترسیل پر پابندی نے تینوں صوبوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ۔
چند روز کے دوران ہی کراچی میں ایک سو کلو گرام گندم کی قیمت میں 2 ہزار روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا جس کے بعد کراچی میں گندم کی بوری 7200 سے بڑھ کے 9300 روپے ہو گئی ہے جبکہ کراچی میں 50 کلو آٹا تھیلا کی قیمت 5 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی۔
پشاور میں 100 کلوگرام گندم بوری کی قیمت میں اضافہ کے بعد نئی قیمت 9800 روپے ہو گئی جبکہ پشاور میں 20 کلو آٹا تھیلا کی قیمت 2500 روپے سے زیادہ ہو چکی ہے۔
کوئٹہ میں گندم بوری قیمت میں اضافہ سے نئی قیمت 9600 روپے ہو گئی جبکہ کوئٹہ میں 20 کلو آٹا تھیلا کی ایکس مل قیمت 2130 روپے ہو گئی ہے۔لاہور ،راولپنڈی اور اسلام آباد میں گندم بوری کی قیمت میں 900 تا 1000 روپے روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔
لاہورمیں گندم کی قیمت 3500 روپے جبکہ راولپنڈی میں 3700 روپے فی من ہو گئی ہے۔لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد میں 15 کلو آٹا تھیلا قیمت میں 150 روپے اضافہ ہوا ہے، نئی ایکس مل قیمت 1450 ہو گئی ہے تاہم اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
میدہ فائن کی قیمت میں سینکڑوں روپے اضافہ سے ڈبل روٹی، بند و دیگر بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔خیبر پختونخوا فلور ملز ایسوسی ایشن نے پنجاب کی قائم کردہ گندم چیک پوسٹوں پر رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
چیئرمین نعیم بٹ نے کہا ہے کہ پنجاب سے گندم آٹا لانے والی چھوٹی گاڑی سے80 ہزار روپے جبکہ بڑی گاڑی سے ڈیڑھ لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی قیمت میں روپے ہو گئی میں اضافہ ہو گئی ہے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔