سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کیلئے پُرعزم، چینی ادارے صنعتوں کو پاکستان منتقل کریں: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ چینی ادارے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں اور صنعتوں کو پاکستان منتقل کریں۔ پاکستان سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے اور صنعتی شراکت داری کو آسان بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
بیجنگ میں چین کے سرکردہ کاروباری اداروں کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان B2B سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سدا بہار اسٹریٹجک کواپریٹو پارٹنرشپ دونوں ممالک کی خوشحالی کے لیے ناگزیر، پاکستان چین کا اتفاق
یہ ملاقات وزیراعظم کے چین کے سرکاری دورے اور تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ہوئی۔
گفتگو کے دوران ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، صنعت، کان کنی و معدنیات، سڑک اور ڈیجیٹل رابطے، ای کامرس اور خلائی ٹیکنالوجیز سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔
وزیراعظم نے کاروباری شخصیات کو بتایا کہ حکومت معیشت کو مستحکم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل کر رہی ہے، جن میں ٹیکس مراعات، چینی شہریوں کے لیے آسان ویزا پالیسی اور بڑے ہوائی اڈوں پر خصوصی بوتھس کا قیام شامل ہے تاکہ سفر اور کاروبار میں سہولت پیدا ہو۔
انہوں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم سرمایہ کاری کو تیز کرنے، رکاوٹوں کو دور کرنے اور B2B تعاون کو فروغ دینے کا موثر پلیٹ فارم ہے۔
وزیراعظم نے کہاکہ صنعتی تعاون پاکستان اور چین کی اقتصادی شراکت داری کا بنیادی ستون ہے اور یہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اعلیٰ معیار کی ترقی کا اہم جزو ثابت ہوگا۔ انہوں نے چینی اداروں کو دعوت دی کہ وہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کریں اور صنعتوں کو پاکستان منتقل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہنرمند اور کم لاگت افرادی قوت، سستی خام مال کی دستیابی اور عالمی و علاقائی منڈیوں سے مؤثر روابط کے باعث سرمایہ کاری کے لیے منفرد تقابلی فائدہ فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں پیشرفت کا خواہاں
شہباز شریف نے اس یقین دہانی کا اعادہ کیا کہ چینی سرمایہ کاری میں اضافہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ علاقائی ترقی، اختراع اور مشترکہ خوشحالی کے سی پیک وژن کو بھی تقویت پہنچائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایس آئی ایف سی بی ٹو بی پاکستان چین تعلقات دورہ چین دوطرفہ تجارت شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس ا ئی ایف سی بی ٹو بی پاکستان چین تعلقات دورہ چین دوطرفہ تجارت شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز سرمایہ کاری کے لیے
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔