عمران خان کی ہدایت کے باوجود کن اراکین نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے نہ دیئے ، نام سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
عمران خان کی ہدایت کے باوجود کن اراکین نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے نہ دیئے ، نام سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 4 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی نہ ہونے والے سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی فہرست سامنے آگئی ہے جب کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے باوجود 26 اراکین نے کمیٹیوں سے استعفے نہیں دیے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے بانی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ منگل کو پی ٹی آئی سے وابستہ اراکینِ قومی اسمبلی کو پارلیمانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر اور دیگر 5 قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں سمیت پی ٹی آئی کے 51 اراکینِ قومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے تھے۔
پارلیمنٹ ہاوس کے ذرائع کے مطابق عمران خان کی واضح ہدایات کے باوجود سنی اتحاد کونسل کے 26 اراکینِ قومی اسمبلی نے اپنی قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفی نہیں دیا تاہم ان اراکین کی فہرست اب منظرِ عام پر آگئی ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق یہ اراکین اب بھی اپنی اپنی قائمہ کمیٹیوں کے رکن ہیں اور بدستور پارلیمانی کارروائی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس صورتحال پر بحث جاری ہے کہ پارٹی قیادت کی ہدایات کے باوجود ان اراکین نے کمیٹی رکنیت کیوں برقرار رکھی۔
استعفی نہ دینے والوں کی فہرست میں شامل اراکین میں سلیم رحمان، سہیل سلطان، محمد بشیر خان، محمد نواز خان، محمد عاطف، شیر علی ارباب، ذوالفقار علی، نسیم علی شاہ، شیر افضل خان، محمد مبین عارف، اسامہ احمد میلا، محمد مقداد علی خان، غلام محمد، علی افضل ساہی، محمد سعد اللہ، عمر فاروق، محمد ریاض خان فتیانہ، محمد محبوب سلطان، سردار محمد لطیف خان کھوسہ، عائشہ نذیر، میاں غوث محمد، محمد معظم علی خان، فیاض حسین، عنبر مجید اور خواجہ شیراز محمود شامل ہیں۔
پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اراکین کے فیصلے نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں اور اس لیے کمیٹی رکنیت چھوڑنے سے گریزاں ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ڈی ایم اے پنجاب نے بھارتی ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی تفصیلات جاری کردیں پی ڈی ایم اے پنجاب نے بھارتی ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی تفصیلات جاری کردیں چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، اسلام آباد میں مختلف مقامات پر ابتدائی طور پر 100بڑے ریچارج ایبل ویلز بنانے کا فیصلہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نئے صوبے بنانے کو خوش آئند قرار دیدیا چیف جسٹس پاکستان کی زیرصدارت چھٹا انٹریکٹو سیشن،عدالتی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ محکمہ موسمیات کی ہفتے سے ملک میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی مصطفی نوازکھوکھر نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹیوں سے عمران خان کی اراکین نے کے باوجود کی ہدایت سب نیوز
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش