وزیراعظم شہباز شریف بیرون ممالک کے دوروں کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہبازشریف بیرون ممالک کے دوروں کے بعد اسلام آباد پہنچ گئے۔وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر اور فلسطین کواجاگر کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسلامی ممالک کے رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں، وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی معاہدہ بھی کیا۔وطن واپس پہنچنے پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نورخان ایئر بیس پر وزیراعظم کا استقبال کیا۔ واضح رہے وزیراعظم شہباز شریف لندن سے واپس پاکستان روانہ ہوئے، وزیراعظم نے لندن میں اپنا چیک اپ بھی کرایا تھا، وزیراعظم شہباز شریف تین دن لندن میں موجود رہے، وزیراعظم نے اوورسیز کے مختلف وفود سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔