پاکستان سمیت علاقائی طاقتوں کا افغانستان میں غیر ملکی اڈوں کی واپسی کی مخالفت
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
افغانستان سے متعلق ماسکو فارمیٹ کے اجلاس میں شریک پاکستان، چین، روس، ایران اور بھارت سمیت بڑی علاقائی طاقتوں نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ افغانستان میں کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ریاستیں افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں اور ملک کو بیرونی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
یہ اعلامیہ پیر کے روز روسی دارالحکومت ماسکو میں جاری کیا گیا۔
اجلاس اس وقت ہوا جب چند ہفتے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ واشنگٹن بگرام ایئر بیس واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہےکیونکہ یہ چین کے قریب ہونے کے باعث دفاعی اہمیت رکھتا ہے۔
یہی فوجی اڈہ 2 دہائیوں تک افغانستان میں امریکی افواج کا مرکز رہا، جسے 2021 کے انخلا کے دوران خالی کر دیا گیا تھا۔
اعلامیہ کے نکات اور علاقائی موقفماسکو فارمیٹ کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی بہانے کے تحت افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں غیر ملکی افواج کی موجودگی قابلِ قبول نہیں۔
’ہم افغانستان کو ایک خودمختار، متحد اور پرامن ریاست کے طور پر دیکھنے کے خواہاں ہیں، جو بیرونی دباؤ یا مداخلت سے آزاد ہو۔‘
اعلامیہ میں امریکا یا ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ افغانستان کے اندر یا اطراف کسی ملک کی فوجی تنصیبات کا قیام ’خطے کے امن کے لیے نقصان دہ‘ ہوگا۔
اجلاس میں پاکستان، چین، روس، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندے شریک ہوئے۔
افغانستان کی عبوری حکومت کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی پہلی مرتبہ مکمل رکن کے طور پر شریک ہوئے۔
شرکا نے زور دیا کہ افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کرے تاکہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
بیان کے مطابق افغانستان کی زمین کسی بھی ملک کے خلاف حملوں یا دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
پاکستان کا مؤقف اور علاقائی تناظرپاکستان کی شرکت ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات میں تناؤ پایا جا رہا ہے۔
پاکستان کے مطابق تحریکِ طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین سے حملے کر رہے ہیں، تاہم طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
اس کے باوجود پاکستان نے طالبان انتظامیہ سے سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانہ فعال ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے جاری ہیں۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی بات چیت میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
پاکستان کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان محمد صادق خان نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ماسکو اجلاس کے دوران پاکستان، چین، روس اور ایران کا ایک علیحدہ چہار فریقی اجلاس بھی منعقد ہوا۔
ان کے مطابق شرکا نے متعدد نامزد دہشت گرد تنظیموں، بشمول ٹی ٹی پی، بی ایل اے، جیش العدال، داعش اور القاعدہ، کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ افغانستان کو دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں تاکہ خطے کی سلامتی متاثر نہ ہو۔
علاقائی تعاون اور معاشی رابطےاجلاس کے شرکا نے افغانستان کے ساتھ تجارتی و معاشی شراکت داری کو وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا، تاکہ پائیدار ترقی، زراعت، صحت اور غربت میں کمی کے منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔
تمام ممالک نے کہا کہ کسی بھی ملک کی جانب سے افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں فوجی ڈھانچے کی تعیناتی ’ناقابلِ قبولـ‘ ہے اور ایسی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہوں گی۔
پس منظر اور تجزیہماسکو فارمیٹ 2017 میں قائم کیا گیا تھا اور یہ افغانستان کے حوالے سے سب سے نمایاں علاقائی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جو ہمسایہ ممالک اور بڑی طاقتوں کو ایک مشترکہ مکالمے میں لاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فورم علاقائی طاقتوں کے لیے طالبان پر دباؤ بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے تاکہ وہ انسانی حقوق، جامع طرزِ حکمرانی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی توقعات پر پورا اتریں۔
سیکیورٹی ماہر سید محمد علی کا کہنا ہے کہ یہ فورم افغان طالبان کو باور کراتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ان کی سیاسی ساکھ اور اقتصادی استحکام، ان کے رویے اور پالیسیوں پر منحصر ہے۔
سینوبر انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ کے مطابق پاکستان طالبان کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اب ایک ریاست کے حکمران ہیں، غیر ریاستی عناصر نہیں۔
’علاقائی ممالک کا مشترکہ دباؤ طالبان کو زیادہ ذمہ دار طرزِ حکمرانی کی طرف لے جا سکتا ہے، جو خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان کے کہ افغان کے مطابق شرکا نے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔