وزیراعظم نے صنعتوں اور کسانوں کے لیے پیکج کا اعلان کردیا،رعایتی قیمت پراضافی بجلی ملے گی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
اسلام آباد( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں اور کسانوں کے لیے پیکج کا اعلان کردیا۔
وزیراعظم سے صنعتی و زرعی شعبےکے ماہرین اورکاروباری برادری کے وفد نے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم نے صنعتوں اور کسانوں کے لیے پیکج کا اعلان کیا۔
’’جیو نیوز ‘‘ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آئندہ 3 سال تک پورا سال صنعتی اور زرعی شعبے کو اضافی بجلی 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ فراہم کی جائے گی، صنعتوں اورکسانوں کو نومبر 2025 سے اکتوبر 2028 تک رعایتی قیمت پراضافی بجلی ملے گی۔صنعتی شعبے کو 34 روپے اور زرعی شعبے کو 38 روپے پر ملنے والے یونٹس کی قیمت کم کرکے اضافی یونٹس فراہم کیے جائیں گے جب کہ روشن معیشت بجلی پیکج کے تحت فراہم کی جانے والی بجلی کا بوجھ گھریلو صارفین اوریا کوئی دوسرا شعبہ نہیں اٹھائے گا۔
شاندار میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ،پولینڈ مستحکم اور پرامن جنوبی ایشیاء کا خواہاں ہے: نائب وزیراعظم پولینڈ
وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ برس سردیوں میں دیئے جانے والے پیکج کےتحت صنعتی و زرعی شعبے نے 410 گیگاواٹ اضافی بجلی استعمال کی جس کی بدولت صنعتوں کا پہیہ چلا، برآمدات میں اضافہ ہوا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، صنعت و زراعت کے شعبے ترقی کریں گے تو ملک کو قرضوں سے نجات ملے گی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: صنعتوں اور
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک