سوار محمد حسین کا یومِ شہادت، قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
---فائل فوٹو
سوار محمد حسین شہید نشانِ حیدر کا آج 54واں یومِ شہادت نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔
آج صبح کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے اہتمام سے کیا گیا۔ علماء کرام نے اپنے خطبات میں شہداء کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہیں، زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں۔
’سوار محمد حسین شہید دھرتی کے بہادر سپوت تھے‘
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے سوار محمد حسین شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ سوار محمد حسین شہید دھرتی کے بہادر سپوت تھے، 1971ء میں سوار محمد حسین کی دلیری نے مادرِ وطن کے تحفظ کو تاریخ میں لازوال کر دیا، سوار محمد حسین شہید جیسے دھرتی کے بیٹوں سے ہی پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، سوار محمد حسین شہید نےاپنی جراّت، دلیری اور بہادری سے پوری قوم کا سرہمیشہ کے لیے فخر سے بلند کر دیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دشمن کے وار کو بےمثل حکمت عملی سے ناکام بنا کر سوار محمد شہید نے میدانِ جنگ کی کایہ پلٹ کر تاریخ رقم کی، سوار محمد حسین شہید اور دیگر بہادر سپوت جنہوں نے مادرِ وطن کے لیے جامِ شہادت نوش کیا وہ ملکی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔
اسپیکر ایاز صادق کا پیغام
نشانِ حیدر سوار محمد حسین شہید کو 54ویں یومِ شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ قوم کے بہادر سپوت سوار محمد حسین کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ سوار محمد حسین کی شجاعت پاکستان کی عسکری تاریخ کا روشن باب ہے، سوار محمد حسین شہید نے 1971ء کی جنگ میں شجاعت و بہادری کی مثال قائم کی۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ سوار محمد حسین نے ظفروال شکر گڑھ سیکٹر میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا، گاؤں ہرارخورد کے نزدیک سوار محمد حسین نے دشمن کے ٹینکوں کی مؤثر نشاندہی کی۔ سوار محمد حسین کی نشاندہی سے ری کوئلس رائفلز کی فائرنگ نے دشمن کے 16 ٹینک تباہ کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محاذ جنگ پر 5 روز تک لڑنے والے سوار محمد حسین 22 سال کی عمر میں شہید ہوئے، قوم اپنے بہادر ہیرو سوار محمد حسین شہید کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے سوار محمد حسین شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سوار محمد حسین شہید سوار محمد حسین کی بہادر سپوت ایاز صادق
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین