لکی مروت: سیمنٹ فیکٹری کی بس کے قریب دھماکا، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
لکی مروت(نیوز ڈیسک) لکی مروت میں نجی سیمنٹ فیکٹری کی بس کے قریب دھماکے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لکی مروت کے علاقے بیگو خیل میں ناورخیل موڑ کے قریب دہشت گردوں نے نجی سیمنٹ فیکٹری کی بس کو آئی ای ڈی دھماکے سے نشانہ بنایا، دھماکا گاؤں بیگوخیل سے نجی سیمنٹ فیکٹری جانے والی بس پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
حکام کے مطابق دھماکے میں سیمنٹ فیکٹری کا ایک ملازم جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں میں 2 خواتین اور فیکٹری کے 4 ملازمین بھی شامل ہیں جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو طبی امداد کیلئے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
ابتدائی رپورٹ تیار
دوسری جانب لکی مروت میں نجی سیمنٹ فیکٹری کے گاڑی پر دھماکے کی ابتدائی رپورٹ مرتب کر لی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق صبح 6 بج کر 30 منٹ پر نجی سیمنٹ فیکٹری پر آئی ای ڈی دھماکا ہوا، دھماکے میں 8 افراد زخمی اور ایک جاں بحق ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعہ کا مقدمہ تھانہ سٹی لکی مروت میں درج کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نجی سیمنٹ فیکٹری لکی مروت
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔