عوامی ایکشن کمیٹی آئے اور حکومت کا حصہ بن جائے، وزیر اعظم آزاد کشمیر کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
نجی ٹی سے سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ احتجاج کرنا غلط بات ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے معاملات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر کوئی تاخیر نہیں کی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا اِس وقت کوئی جواز نہیں، ریاست کے پاس اختیار ہے احتجاج کو روک بھی سکتی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی آئے ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے۔ نجی ٹی سے سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ احتجاج کرنا غلط بات ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے معاملات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر کوئی تاخیر نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں کچھ پر نوٹیفکیشن ہو گئے ہیں اور کچھ پر عملدرآمد جاری ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کی جذباتی کیفیت میرے لیے حیران کن ہے، ریاست کو آگے لے کر جانا ہے تو مل بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ آج پوری وفاقی حکومت ایک ایک چیز کا نوٹس لے رہی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کا اِس وقت کوئی جواز نہیں، معاہدے میں قائمہ کمیٹیوں کا ذکر نہیں کمیٹیاں اسمبلی بناتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست کے پاس اختیار ہے احتجاج کو روک بھی سکتی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی آئے ہمارے ساتھ حکومت کا حصہ بن جائے، ریاست ان کو آنرشپ دینے اور ساتھ لے کر چلنے کو تیار ہے، جب احتجاج ہوا اور اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو دونوں طرف نقصان ہمارا ہی ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی کے کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔