سونا مزید مہنگا ہوگیا؛ عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی:
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج مسلسل دوسرے دن قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے کے سبب سونا مزید مہنگا ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج منگل کے روز فی اونس سونے کی قیمت 32ڈالر بڑھ گئی، جس کے بعد نئی عالمی قیمت 4ہزار 456ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 3ہزار 200روپے کا اضافہ ریکارڈ ہونے کے بعد نئی قیمت 4لاکھ 67ہزار 962روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 2ہزار 743روپے بڑھ کر 4لاکھ 01ہزار 201روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 338روپے کے اضافے سے 8ہزار 361روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 290روپے کے اضافے سے 7ہزار 168روپے کی سطح پر آگئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سونے کی قیمت میں یکدم بڑا اضافہ ریکارڈ ہوا تھا، جس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونا 4424 ڈالر فی اونس جب کہ مقامی سطح پر 9200 روپے فی تولہ اور 7888 روپے فی 10 گرام مہنگا ہوگیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔