امریکہ: یوٹاہ میں چرچ کے باہر فائرنگ، 2 ہلاک اور 6 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست یوٹاہ کے دارالحکومت سالٹ لیک سٹی میں بدھ کی شام ایک المناک واقعہ پیش آیا، جہاں چرچ کے باہر فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس کی ایک چیپل کے باہر پیش آیا، جہاں ایک شخص کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری اطلاع ملتے ہی فوراً موقع پر پہنچ گئے اور چرچ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ دیگر زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے تفتیشی ٹیمیں متحرک ہیں اور جلد ہی ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کے دوران چرچ اور قریبی علاقوں سے احتیاط کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو فراہم کریں۔
یہ واقعہ شہر میں عمومی حفاظت اور مذہبی اجتماعات کے دوران سلامتی کے مسائل کو اجاگر کرتا ہے، اور مقامی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔
پولیس اور مقامی حکام نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کیا ہے اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یہ خبر عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور امریکہ میں شہریوں کی حفاظت اور مذہبی اجتماعات کے دوران سلامتی کے سوالات کو اجاگر کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔