Express News:
2026-07-24@08:35:40 GMT

دنیا کا انتشار زدہ مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کو نکالنے اور اُن کی مالی معاونت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ان میں ماحولیات، امن اور جمہوریت پر عالمی تعاون کے بڑے فورمز شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے روس کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا، مزید برآں وینزویلا سے منسلک دوسرا ٹینکر بھی پکڑ لیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیانات میں زور دے کر کہا ہے کہ چین اور روس صرف امریکا سے ڈرتے اور اس کی عزت کرتے ہیں اور نیٹو کے بغیر عالمی طاقتیں بے خوف ہو جائیں گی۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کی علیحدگی اور ان کی مالی معاونت بند کرنے کا اعلان محض ایک انتظامی اقدام یا وقتی سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی نظام، بین الاقوامی قانون، طاقت کے توازن اور دنیا کے مستقبل سے جڑا ایک غیر معمولی اور دور رس اثرات رکھنے والا اعلان ہے۔

یہ فیصلہ دراصل اس طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے جو دنیا کو اصولوں، معاہدوں اور اجتماعی ذمے داریوں کے بجائے محض طاقت، دباؤ اور معاشی جبر کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف کہ یہ عالمی ادارے امریکا کے مفادات کے بجائے اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں، ایک پرانا بیانیہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی تعاون کو ذاتی مفاد کے ترازو میں تول کر رد کر دینا ایک ذمے دار عالمی طاقت کے شایانِ شان طرزِ عمل ہو سکتا ہے؟

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خود امریکا اور اس کے اتحادیوں نے تشکیل دیے تھے تاکہ دنیا کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے، تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور ترقی، انسانی حقوق، صحت اور ماحولیات جیسے مشترکہ مسائل پر تعاون کو فروغ دیا جائے۔

آج اگر امریکا ہی ان اداروں کو بے کار، نقصان دہ اور اپنی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی نظام کو توڑ رہا ہے جسے اس نے خود تخلیق کیا تھا۔ بین الاقوامی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی، اقوام متحدہ کا موسمیاتی معاہدہ، زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق ادارے، جمہوریت کے فروغ کے لیے قائم فورمز اور فطرت کے تحفظ سے وابستہ عالمی تنظیموں سے علیحدگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا اب اجتماعی عالمی ذمے داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی آج دنیا کا سب سے بڑا مشترکہ چیلنج ہے۔

سمندروں کی سطح میں اضافہ، شدید موسمی حالات، قحط، سیلاب اور درجہ حرارت میں اضافہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں۔ ایسے میں اگر دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور تاریخی طور پر سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والا ملک عالمی موسمیاتی تعاون سے الگ ہو جائے تو اس کے نتائج نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ خود امریکا کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ دعویٰ کہ یہ ادارے امریکی خوشحالی کے لیے خطرہ ہیں، دراصل اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کہ ماحولیاتی تباہی، صحت کے بحران اور عالمی عدم استحکام سب سے پہلے طاقتور معیشتوں کو ہی متاثر کرتے ہیں۔

 یہی رویہ ہمیں عالمی سیاست اور سلامتی کے میدان میں بھی نظر آتا ہے۔ امریکا کی جانب سے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کو قبضے میں لینا، جس کی نگرانی ایک روسی آبدوز کررہی تھی، محض ایک بحری کارروائی نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال ہے۔ روس کی جانب سے اسے کھلی قزاقی قرار دینا اور برطانیہ کی جانب سے اس کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے کی تصدیق اس بات کو واضح کرتی ہے کہ عالمی قوانین کی تشریح اب طاقت کے بل پر کی جا رہی ہے، اگر ایک بڑی طاقت یہ حق اپنے لیے محفوظ کر لے کہ وہ پابندیوں کے نام پر کسی بھی ملک کے جہاز کو کھلے سمندر میں روک لے تو پھر عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری سلامتی کا پورا نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے وینز ویلا سے منسلک ایک اور سپر ٹینکر کی ضبطی اور اسے ’’ بے ریاست، منظور شدہ ڈارک فلیٹ موٹر ٹینکر‘‘ قرار دینا بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی تیل برآمدات روکنے کے لیے بحرِ اوقیانوس میں ہفتوں تک تعاقب اور پھر زبردستی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اب معاشی پابندیوں کو عسکری طاقت کے ساتھ جوڑ کر استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جو دنیا کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف دھکیل رہا ہے، جہاں کمزور ممالک کے حقوق محض کاغذی باتیں بن کر رہ جاتی ہیں۔

 وینزویلا کے معاملے میں امریکی صدر کا تازہ اعلان اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ یہ کہنا کہ وینزویلا تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صرف امریکی ساختہ مصنوعات کی خریداری پر خرچ کرے گا، دراصل ایک خود مختار ریاست کی معاشی آزادی کو براہِ راست ختم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف وینزویلا کی معیشت کو امریکی مفادات کے تابع کرتا ہے بلکہ عالمی تجارت کے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکا کو فراہم کیا جائے گا اور امریکی آئل کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کریں گی، دراصل طاقت اور مجبوری کے رشتے کو ’’ معاہدے‘‘ کا نام دینے کی کوشش ہے۔ اس کے اثرات عالمی تیل منڈی میں فوری طور پر دیکھے گئے، جہاں قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک آنا اور امریکی خام تیل کی قیمت میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ملک کے سیاسی فیصلے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا سکتے ہیں، اگر وینزویلا کا وہ تیل، جو پابندیوں کے باعث ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں رکا ہوا ہے، عالمی منڈی میں آ گیا تو قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔ امریکی صدر کے سوشل میڈیا بیانات، جن میں انھوں نے کہا کہ چین اور روس صرف امریکا سے ڈرتے اور اس کی عزت کرتے ہیں، عالمی سیاست کے ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ سوچ کہ دنیا کو صرف طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکتا ہے، تاریخ میں کئی بار تباہ کن نتائج کا باعث بن چکی ہے۔

 یہ تمام اقدامات، بیانات اور پالیسیاں مل کر ایک ایسے امریکا کی تصویر پیش کرتی ہیں جو عالمی نظام میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے بجائے اسے اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ عالمی اداروں سے علیحدگی، سمندری کارروائیاں، معاشی پابندیوں کا عسکری استعمال اور کمزور ممالک پر تجارتی شرائط مسلط کرنا سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جو وقتی طور پر طاقت کا تاثر تو دے سکتی ہے، مگر طویل المدت طور پر عالمی عدم استحکام، عدم اعتماد اور تصادم کو جنم دے گی۔دنیا آج ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں چین، روس، یورپی یونین اور دیگر علاقائی طاقتیں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔

ایسے میں اگر امریکا عالمی اداروں سے الگ ہو جائے تو یہ خلا خود بخود پُر ہو جائے گا، اور ممکن ہے کہ وہ طاقتیں آگے آ جائیں جن کے نظریات اور مفادات امریکا سے مختلف ہوں۔ یہ صورت حال نہ صرف عالمی سیاست بلکہ خود امریکا کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی قیادت محض طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، شراکت اور اصولوں کی پاسداری سے حاصل کی جاتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ تبدیلیاں خاص طور پر تشویش ناک ہیں۔ عالمی اداروں کی کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ اور ماحولیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، ان پالیسیوں کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہماری معیشت، درآمدات اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے، جب کہ عالمی تعاون میں کمی ہمارے ترقیاتی امکانات کو بھی محدود کر سکتی ہے۔ یہ وقت عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے۔ کیا دنیا دوبارہ طاقت کے قانون کی طرف لوٹنا چاہتی ہے یا وہ اصولوں، قوانین اور تعاون پر مبنی نظام کو بچانا چاہتی ہے؟ امریکا کا کردار اس حوالے سے فیصلہ کن ہے۔ اگر وہ واقعی عالمی استحکام، امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے تو اسے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے مکالمے، اصلاحات اور مشترکہ ذمے داریوں کی راہ اپنانی ہوگی۔

عالمی اداروں کی خامیاں اپنی جگہ، مگر انھیں مکمل طور پر ترک کرنا مسائل کا حل نہیں۔آخرکار یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر ادارے اور اصول دیرپا ہوتے ہیں۔ جو ریاستیں صرف طاقت کے سہارے دنیا کو چلانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ بالآخر خود بھی عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج امریکا جس راستے پر چل رہا ہے، وہ دنیا کو ایک غیر یقینی، خطرناک اور انتشار زدہ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کریں، ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہ ثابت کر دے گی کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے بالآخر خود اسی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی عالمی اداروں اقوام متحدہ عدم استحکام امریکی صدر کی جانب سے اداروں کی کہ عالمی سکتے ہیں کرتے ہیں کے بجائے یہ ہے کہ سکتا ہے طاقت کے دنیا کو کے لیے اور اس اس بات کی طرف رہا ہے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی