Express News:
2026-06-03@00:06:03 GMT

دنیا کا انتشار زدہ مستقبل

اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کو نکالنے اور اُن کی مالی معاونت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ان میں ماحولیات، امن اور جمہوریت پر عالمی تعاون کے بڑے فورمز شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے روس کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا، مزید برآں وینزویلا سے منسلک دوسرا ٹینکر بھی پکڑ لیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیانات میں زور دے کر کہا ہے کہ چین اور روس صرف امریکا سے ڈرتے اور اس کی عزت کرتے ہیں اور نیٹو کے بغیر عالمی طاقتیں بے خوف ہو جائیں گی۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کی علیحدگی اور ان کی مالی معاونت بند کرنے کا اعلان محض ایک انتظامی اقدام یا وقتی سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی نظام، بین الاقوامی قانون، طاقت کے توازن اور دنیا کے مستقبل سے جڑا ایک غیر معمولی اور دور رس اثرات رکھنے والا اعلان ہے۔

یہ فیصلہ دراصل اس طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے جو دنیا کو اصولوں، معاہدوں اور اجتماعی ذمے داریوں کے بجائے محض طاقت، دباؤ اور معاشی جبر کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف کہ یہ عالمی ادارے امریکا کے مفادات کے بجائے اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں، ایک پرانا بیانیہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی تعاون کو ذاتی مفاد کے ترازو میں تول کر رد کر دینا ایک ذمے دار عالمی طاقت کے شایانِ شان طرزِ عمل ہو سکتا ہے؟

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خود امریکا اور اس کے اتحادیوں نے تشکیل دیے تھے تاکہ دنیا کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے، تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور ترقی، انسانی حقوق، صحت اور ماحولیات جیسے مشترکہ مسائل پر تعاون کو فروغ دیا جائے۔

آج اگر امریکا ہی ان اداروں کو بے کار، نقصان دہ اور اپنی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی نظام کو توڑ رہا ہے جسے اس نے خود تخلیق کیا تھا۔ بین الاقوامی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی، اقوام متحدہ کا موسمیاتی معاہدہ، زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق ادارے، جمہوریت کے فروغ کے لیے قائم فورمز اور فطرت کے تحفظ سے وابستہ عالمی تنظیموں سے علیحدگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا اب اجتماعی عالمی ذمے داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی آج دنیا کا سب سے بڑا مشترکہ چیلنج ہے۔

سمندروں کی سطح میں اضافہ، شدید موسمی حالات، قحط، سیلاب اور درجہ حرارت میں اضافہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں۔ ایسے میں اگر دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور تاریخی طور پر سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والا ملک عالمی موسمیاتی تعاون سے الگ ہو جائے تو اس کے نتائج نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ خود امریکا کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ دعویٰ کہ یہ ادارے امریکی خوشحالی کے لیے خطرہ ہیں، دراصل اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کہ ماحولیاتی تباہی، صحت کے بحران اور عالمی عدم استحکام سب سے پہلے طاقتور معیشتوں کو ہی متاثر کرتے ہیں۔

 یہی رویہ ہمیں عالمی سیاست اور سلامتی کے میدان میں بھی نظر آتا ہے۔ امریکا کی جانب سے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کو قبضے میں لینا، جس کی نگرانی ایک روسی آبدوز کررہی تھی، محض ایک بحری کارروائی نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال ہے۔ روس کی جانب سے اسے کھلی قزاقی قرار دینا اور برطانیہ کی جانب سے اس کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے کی تصدیق اس بات کو واضح کرتی ہے کہ عالمی قوانین کی تشریح اب طاقت کے بل پر کی جا رہی ہے، اگر ایک بڑی طاقت یہ حق اپنے لیے محفوظ کر لے کہ وہ پابندیوں کے نام پر کسی بھی ملک کے جہاز کو کھلے سمندر میں روک لے تو پھر عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری سلامتی کا پورا نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے وینز ویلا سے منسلک ایک اور سپر ٹینکر کی ضبطی اور اسے ’’ بے ریاست، منظور شدہ ڈارک فلیٹ موٹر ٹینکر‘‘ قرار دینا بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی تیل برآمدات روکنے کے لیے بحرِ اوقیانوس میں ہفتوں تک تعاقب اور پھر زبردستی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اب معاشی پابندیوں کو عسکری طاقت کے ساتھ جوڑ کر استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جو دنیا کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف دھکیل رہا ہے، جہاں کمزور ممالک کے حقوق محض کاغذی باتیں بن کر رہ جاتی ہیں۔

 وینزویلا کے معاملے میں امریکی صدر کا تازہ اعلان اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ یہ کہنا کہ وینزویلا تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صرف امریکی ساختہ مصنوعات کی خریداری پر خرچ کرے گا، دراصل ایک خود مختار ریاست کی معاشی آزادی کو براہِ راست ختم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف وینزویلا کی معیشت کو امریکی مفادات کے تابع کرتا ہے بلکہ عالمی تجارت کے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکا کو فراہم کیا جائے گا اور امریکی آئل کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کریں گی، دراصل طاقت اور مجبوری کے رشتے کو ’’ معاہدے‘‘ کا نام دینے کی کوشش ہے۔ اس کے اثرات عالمی تیل منڈی میں فوری طور پر دیکھے گئے، جہاں قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک آنا اور امریکی خام تیل کی قیمت میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ملک کے سیاسی فیصلے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا سکتے ہیں، اگر وینزویلا کا وہ تیل، جو پابندیوں کے باعث ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں رکا ہوا ہے، عالمی منڈی میں آ گیا تو قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔ امریکی صدر کے سوشل میڈیا بیانات، جن میں انھوں نے کہا کہ چین اور روس صرف امریکا سے ڈرتے اور اس کی عزت کرتے ہیں، عالمی سیاست کے ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ سوچ کہ دنیا کو صرف طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکتا ہے، تاریخ میں کئی بار تباہ کن نتائج کا باعث بن چکی ہے۔

 یہ تمام اقدامات، بیانات اور پالیسیاں مل کر ایک ایسے امریکا کی تصویر پیش کرتی ہیں جو عالمی نظام میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے بجائے اسے اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ عالمی اداروں سے علیحدگی، سمندری کارروائیاں، معاشی پابندیوں کا عسکری استعمال اور کمزور ممالک پر تجارتی شرائط مسلط کرنا سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جو وقتی طور پر طاقت کا تاثر تو دے سکتی ہے، مگر طویل المدت طور پر عالمی عدم استحکام، عدم اعتماد اور تصادم کو جنم دے گی۔دنیا آج ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں چین، روس، یورپی یونین اور دیگر علاقائی طاقتیں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔

ایسے میں اگر امریکا عالمی اداروں سے الگ ہو جائے تو یہ خلا خود بخود پُر ہو جائے گا، اور ممکن ہے کہ وہ طاقتیں آگے آ جائیں جن کے نظریات اور مفادات امریکا سے مختلف ہوں۔ یہ صورت حال نہ صرف عالمی سیاست بلکہ خود امریکا کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی قیادت محض طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، شراکت اور اصولوں کی پاسداری سے حاصل کی جاتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ تبدیلیاں خاص طور پر تشویش ناک ہیں۔ عالمی اداروں کی کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ اور ماحولیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، ان پالیسیوں کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہماری معیشت، درآمدات اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے، جب کہ عالمی تعاون میں کمی ہمارے ترقیاتی امکانات کو بھی محدود کر سکتی ہے۔ یہ وقت عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے۔ کیا دنیا دوبارہ طاقت کے قانون کی طرف لوٹنا چاہتی ہے یا وہ اصولوں، قوانین اور تعاون پر مبنی نظام کو بچانا چاہتی ہے؟ امریکا کا کردار اس حوالے سے فیصلہ کن ہے۔ اگر وہ واقعی عالمی استحکام، امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے تو اسے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے مکالمے، اصلاحات اور مشترکہ ذمے داریوں کی راہ اپنانی ہوگی۔

عالمی اداروں کی خامیاں اپنی جگہ، مگر انھیں مکمل طور پر ترک کرنا مسائل کا حل نہیں۔آخرکار یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر ادارے اور اصول دیرپا ہوتے ہیں۔ جو ریاستیں صرف طاقت کے سہارے دنیا کو چلانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ بالآخر خود بھی عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج امریکا جس راستے پر چل رہا ہے، وہ دنیا کو ایک غیر یقینی، خطرناک اور انتشار زدہ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کریں، ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہ ثابت کر دے گی کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے بالآخر خود اسی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی عالمی اداروں اقوام متحدہ عدم استحکام امریکی صدر کی جانب سے اداروں کی کہ عالمی سکتے ہیں کرتے ہیں کے بجائے یہ ہے کہ سکتا ہے طاقت کے دنیا کو کے لیے اور اس اس بات کی طرف رہا ہے

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان