والد عمرے پر ویل چیئر پرگئے اور چل کر واپس آئے، اداکار حارث وحید نے معجزاتی واقعہ شیئر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2026 GMT
پاکستانی اداکار حارث وحید نے عمرے کے دوران اپنے والد کے ساتھ پیش آئے معجزے کا تذکرہ کیا ہے۔اداکار نے حال ہی میں اپنے والد کے ساتھ عمرے کی سعادت حاصل کی اور اس دوران پیش آنے والا معجزاتی واقعہ بھی اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کیا۔حارث وحید نے انسٹاگرام پر عمرے کی ادائیگی کے دوران بنائی جانے والی ویڈیو شیئر کی جس میں ان کے والد ویل چیئر پر موجود ہیں۔اداکار نے بتایاکہ ان کے والد عمرے کی ادائیگی کیلئے ویل چیئر پر گئے تھے اور وہ اپنے قدموں پر چل کر وطن واپس آئے ہیں۔حارث وحید نے مزید لکھا کہ یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں، یہ اللہ کی مہربانی ہے اور میں اپنے والد کیلئے بہت خوش ہوں۔اداکار نے جیسے ہی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تو ان کے چاہنے والوں نے عمرے کی مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ ان کے والد کی سلامتی کیلئے دعا بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔