بھارتی ریاست منی پور میں حال ہی میں تین سال بعد بھی امن بحال نہ ہو سکا
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2026 GMT
ریاست منی پور میں مرکز ی حکومت سے دوری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
حال ہی میں دی اکانومسٹ نے تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ منی پور میں تین سال بعد بھی امن بحال نہ ہو سکا-
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی جے پی حکومت کے غیر سنجیدہ رویے نے منی پور کو عملی طور پر نسلی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے- منی پور میں کُوکی اور میتی برادری کے درمیان بڑھتی دوریاں بی جے پی حکومت کی بالادستانہ سوچ کا نتیجہ ہیں۔
صدر راج کے نفاذ کے باوجود بی جے پی حکومت منی پور میں اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ہے - مرکز کے خلاف غصہ شدت اختیار کر گیا جبکہ 2023 میں ہندو میتئی کمیونٹی اور عیسائی کوکی کمیونٹی کے مابین بدترین “نسلی تشدد ” ہوا تھا۔
متاثرین نے بی جے پی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے تنازع کو منظم کیا- بی جے پی حکومت وہ ضروری اقدامات لینے سے گریزاں رہی جو اس تشدد کو روک سکتے تھے۔
پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ یہ تنازع "ریاستی نااہلی" کے باعث شدت اختیار کر گیاہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تقریباً 50,000 لوگ (زیادہ تر کوکی عیسائی) آج بھی پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں۔
کوکی بیروزگار 84 روپے (0.
منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے- بی جے پی کی بد انتظامی منی پور میں نسلی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے- ناکام گورننس نے منی پور میں پرانی آزادی پسند تحریکوں کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ پیدا کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی جے پی حکومت منی پور میں
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔