پنجاب کا بلدیاتی کالا قانون: جماعت اسلامی کے 4روزہ عوامی ریفرنڈم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور : پنجاب کے بلدیاتی قانون پر4روزہ عوامی ریفرنڈم کا جمعرات کو آغاز ہوگیا،پہلے روز مردو خواتین نے بھرپور انداز میں رائے کا اظہار کیا ، نتائج کی روشنی میں پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کیا جائے گا، کالے قانون کی خاتمے تک گھیراؤ جاری رہے گا۔
جماعت اسلامی کے زیراہتمام ریفرنڈم کے لیے مرکز اور صوبے کے تمام اضلاع میں آزاد ریفرنڈم کمیشن تشکیل دے کر احمد بلال محبوب کو چیف الیکشن کمیشن مقرر کیا گیا۔ آزادانہ رائے دہی کے لیے چوکوں ، چوراہوں ، گلیوں ، مارکیٹوں، تعلیمی اداروں اور دیگر عوامی مقامات پر کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔
لاہور میں 14 سو کیمپ جبکہ باقی اضلاع میں بھی ہزاروں کیمپ قائم ہیں۔ ریفرنڈم کے پہلے روز بھرپور گہما گہمی رہی اور مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا۔
ٹاؤن شپ لاہور میں پولنگ کیمپ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، مؤثر بلدیاتی نظام کے مطالبے کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پنجاب کا کالا قانون جو جمہوریت اور عوام کی توہین ہے کو واپس لیا جائے اور بلدیاتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام گزشتہ 10 برس سے نچلی سطح پر حق حکمرانی سے محروم ہےں، بلدیاتی قانون میں باربار تبدیلی کی گئی ، اسلام آباد میں بلدیاتی قانون 5 مرتبہ تبدیل کیا گیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اختیارات پر قابض ہیں، پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں بھی بلدیاتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان شکیل ترابی ، سیکریٹری جنرل لاہور اظہر بلال ، نائب امیر لاہور خالد بٹ، امیر ضلع مرزا محمد رشید ، سلمان ایوب اور دیگر رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔