بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے
امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا
عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر اور ساتھ ایشیا جسٹس کیمپین نے اپنی تازہ دستاویزات میں کہا ہے کہ مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات، ہندوتوا تشدد اور ریاستی طاقت کے استعمال میں اضافہ بھارتی قیادت کے متعصبانہ طرزِ عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق سال 2025 کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50 مسلما ن مارے گئے ۔ سائو تھ ایشیا جسٹس کیمپین کے مطابق ان میں سے 23 مسلمان ہندوتوا انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں جبکہ 27 ہندو انتہا پسند حملوں میں جان سے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسلم مخالف تقاریر کے نتیجے میں 13 بھارتی ریاستوں میں 26 سے زائد منظم اجتماعی تشدد کے واقعات پیش آئے۔ مذہبی بنیادوں پر سب سے زیادہ ہلاکتیں اتر پردیش میں رپورٹ ہوئیں جہاں 6 مسلمانوں کے قتل کی تصدیق کی گئی۔گائے کے نام پر تشدد کے واقعات میں 9 مسلمان ہلاک ہوئے جبکہ 3 افراد کو شدید تشدد کے بعد خودکشی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے علاوہ مقبوضہ جموں و کشمیر، آسام، اتر پردیش اور دیگر علاقوں میں 17 سے زائد مسلمان اور 2 بچے ریاستی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 4 ہزار سے زائد بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کیا گیا جبکہ گزشتہ سال مسلمانوں کی املاک مسماری اور جبری بے دخلی کو ریاستی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا۔مبصرین کے مطابق مذہبی شناخت کی بنیاد پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا سماجی ہم آہنگی اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کارروائیوں میں انسانی حقوق کی بھارت میں کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں