پاکستان سے تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں، روسی صدر پیوٹن
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن)روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ پاکستان سے تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں۔پاکستان اور روس کے تعلقات سے متعلق ولادیمیر پیوٹن کی گفتگو روسی سفارتخانے نے جاری کردی ہے۔روسی سفارتخانے کے اعلامیے کے مطابق روسی صدر نے روس اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق بات کی۔ ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رکن ہے، جو خطے کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے، روس پاکستان تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی طور پر مفید ہیں۔
ان ممالک پر ٹیرف عائد کر سکتا ہوں جو گرین لینڈ سے متعلق منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے، ٹرمپ کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔