وزیر توانائی علی پرویز ملک کی سعودی وزرا سے اہم ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
سٹی 42 : وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح سے ملاقات کی جس کے دوران معدنی و توانائی سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
علی پرویز ملک نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے ساتھ توانائی تعاون کو بڑھانے اور نالج ایکسچینج پر کام کریں گے،پاکستان معدنیات کے میدان میں اُبھرتی ہوئی عالمی منزل بن رہا ہے، علی پرویز ملک نے فیوچر منرلز فورم میں پاکستان کے معدنی وسائل کو اُجاگر کیا۔
پنجابی کامیڈی فلم ’’اک کڑی‘‘ سینماؤں میں ریلیز
علی پرویز ملک نے انٹرنیشنل انرجی فورم، میٹسو کارپوریشن اور سعودی ایکزم بینک کی ٹیم سے اہم ملاقاتیں کیں،عالمی وزراء کے پینل میں پاکستان کے معدنی وژن کو بھرپور پذیرائی ملی۔
وفاقی وزیر توانائی نےبتایا کہ پاکستانی معدنیات اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین مواقع ہیں،حکومت پاکستان معدنی شعبے میں ضوابط آسان بنا رہی ہے،ریکوڈک صرف منصوبہ نہیں، پاکستان میں کان کنی کا نیا معیار ہے۔علی پرویز ملک نے اپریل 2026 میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم پر عالمی سرمایہ کاروں کو دعوت دی
سخت سردی ؛ درجنوں بچے نمونیے کا شکار ؛ہسپتال بھر گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علی پرویز ملک نے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔