کراچی میں آگبے قابوہے تو اندرون سندھ حالات کیا ہونگے، مفتاح
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی:(نیوزڈیسک)سابق وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے وفاقی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) 18 سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور جب کراچی میں آگ پر قابو نہیں پاسکتے تو اندرون سندھ کے کیا حالات ہوں گے۔
کراچی میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے تحت کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چند ہفتوں میں حکومت نے دو سروے لیبر اور ہاؤس نکالا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں اصافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غریب لوگ مزید 18 فیصد غریب ہوئے ہیں، اوسطاً پاکستانی 12 فیصد غریب ہوئے ہیں اور ہماری انکم 2010 والی آج تک کھڑی ہے اور 2021 سے حقیقی انکم کم ہوتی جارہی ہے ۔
سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ 2018 میں 16 فیصد گھرانوں کو کھانے کی فکر تھی، آج ان گھرانوں کی تعداد 25 فیصد ہوگئی ہے، 25 فیصد لوگوں کو پتا نہیں روٹی کہاں سے آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ2018 میں ہر پاکستانی زیادہ کھاتا تھا اج وہی نہیں کھا سکتا،2018 میں جو 4 انڈے کھا سکتا تھا آج ایک انڈہ نہیں کھا سکتا، پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا گیا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پانچ سال پہلے شہری تنخواہ سے پیسے بچا لیتا تھا لیکن آج کا شہری قرض لے کر بھی گھر نہیں چلا سکتا، کئی خاندانوں کے پاس ناشتہ تک نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سیاست سیٹل نہیں ہوتی تو معیشت ٹھیک نہیں ہوگی اس کے لیے پہلا قدم حکومت کو بڑھانا ہوگا۔
اپوزیشن رہنما نے کہا کہ اب کہا جا رہا ہے 25 سال کی عمر کو ووٹ کا حق دیا جائے، کچھ دنوں میں کہا جائے گا ووٹ کی عمر 70 سال کر دی گئی ہے ۔
کراچی میں پیش آنے والے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا، متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں پی پی کی حکومت 18 سال سے ہے، کراچی میں آگ پر قابو نہیں پاسکتے تو اندرون سندھ کے کیا حالات ہوں گے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس مینڈیٹ نہیں تو وہ تبدیلی نہیں لاسکتے، خدارا عوام کا خیال کریں، بھوک، افلاس پھیل رہی ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ غریب عوام کی خاطر آپس میں بیٹھ کر معاہدہ کرنا چاہیے، محمود خان اچکزئی اور اسد قیصر مل کر حکومت سے بات کریں، 4 سال سے سیاست پھنسی ہوئی ہے اور پیکا ایکٹ کے خلاف صحافی برادری کو بات کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔