لکی انوسٹمنٹس نے ’’لکی فنڈز‘‘ موبائل ایپ متعارف کرادی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-06-19
کراچی (کامرس رپورٹر) لکی انوسٹمنٹس نے موبائل سرمایہ کاری ایپلیکشن ’’لکی فنڈز‘‘ متعارف کرادی ہے۔ یہ ایپ سرمایہ کاروں کو شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری تک محفوظ،آسان اور شفاف رسائی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ لکی فنڈز گوگل پلے اسٹور (Android) اور ایپل ایپ اسٹور (iOS) دونوں پر دستیاب ہے۔ ایپ کے ذریعے سرمایہ کار لکی انوسٹمنٹس کے تمام میوچل اور پنشن فنڈزمیں سرمایہ کاری ،فنڈز کی تبدیل اور ریڈیمشن کی سہولت کے ساتھ ساتھ رئیل ٹائم میں پورٹ فولیو کی نگرانی اور فنڈزسے متعلق جامع معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے تیارکی گئی۔ ایپ کے ذریعے صارفین فنڈز کا جائزہ، ڈیجیٹل اکائونٹ کھولنے کی سہولت، سرمایہ کاری کی کارکردگی کو ٹریک اور کسی بھی وقت کہیں بھی اپنی سرمایہ کاری کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایپ سرمایہ کاروں کو آگاہی فراہم کرنے میں بھی معاون ہے۔ جس میں شریعہ کے مطابق سرمایہ کاری سے متعلق تجزیہ، سی ای او مارکیٹ آئوٹ لک اور مالی منصوبہ بندی کے ٹولز شامل ہیں جو منظم بچت اور کمپائونڈنگ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیںلکی فنڈز ایپ کو ایک محفوظ ڈیجیٹل سروس چینل کے طورپر تیارکیاگیاہے جس میں بائیو میٹرک اور چہرے کی شناخت کی تصدیق، انکرپٹڈ کمیونیکیشن، بیک اینڈ آتھرائزیشن کنڑولز،آڈٹ ٹریل اور سسٹم کی منطقی تقسیم شامل ہے تاکہ ڈیٹا اور ٹرانزیکشنز کی رازداری، سالمیت اوراعتماد کو یقینی بنایا جاسکے۔ ایپ کی نمایاں خصوصیات میں ڈیجیٹل اکائونٹ کھولنا، فنڈ کے حساب سے پورٹ فولیو کی سیگریشن،یومیہ نیٹ ایسٹ ویلیو(NAV) اور کارکردگی رپورٹس تک رسائی، اسٹیٹمنٹس اور سرٹیفکیٹس ڈائون لوڈ کرنے کی سہولت، ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز، راست آئی ڈی جنریشن، کیوک پے سروس،قابلِ تخصیص یوزر انٹر فیس تھیمز، پش نوٹیفکیشنز اورسرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق اسکیل ہونے والا ہائی اویلبلٹی انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔ لکی انوسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد شعیب سی ایف اے نے کہاکہ لکی فنڈز ایپ ٹیکنالوجی اور شریعہ کے مطابق گورننس کو یکجا کرنے کے کمپنی کے عزم کی عکاسی ہے جس کا مقصداعتماد اور شفافیت پر سمجھوتہ کیے بغیر سرمایہ کاروں کے تجربے کوبہتر بناناہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لکی انوسٹمنٹس سرمایہ کاروں سرمایہ کاری لکی فنڈز کے مطابق
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔