WE News:
2026-07-24@05:21:09 GMT

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 23 جنوری کو طلب، نوٹیفکیشن جاری

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 23 جنوری کو طلب، نوٹیفکیشن جاری

صدرِ مملکت آصف زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ کو طلب کر لیا ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل بروز جمعہ 23 جنوری کو دن 11 بجے منعقد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ریکارڈ آٹھواں خطاب

یہ اجلاس صدرِ مملکت کی جانب سے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 54 کی شق (1) کے تحت تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے طلب کیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: صدر زرداری وفاق کی علامت نظر نہیں آئے، خطاب میں کوئی نئی بات نہیں تھی، پی ٹی آئی

مشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین شرکت کریں گے، جبکہ اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق تفصیلات بعد ازاں جاری کی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئین آصف زرداری پارلیمنٹ پاکستان سیکریٹریٹ سینیٹ صدر مملکت قومی اسمبلی مشترکہ اجلاس نوٹیفکیشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پارلیمنٹ پاکستان سیکریٹریٹ سینیٹ صدر مملکت قومی اسمبلی مشترکہ اجلاس نوٹیفکیشن مشترکہ اجلاس قومی اسمبلی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن