پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 23 جنوری کو طلب، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
صدرِ مملکت آصف زرداری نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعہ کو طلب کر لیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل بروز جمعہ 23 جنوری کو دن 11 بجے منعقد ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف علی زرداری کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ریکارڈ آٹھواں خطاب
یہ اجلاس صدرِ مملکت کی جانب سے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 54 کی شق (1) کے تحت تفویض کردہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے طلب کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری وفاق کی علامت نظر نہیں آئے، خطاب میں کوئی نئی بات نہیں تھی، پی ٹی آئی
مشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین شرکت کریں گے، جبکہ اجلاس کے ایجنڈے سے متعلق تفصیلات بعد ازاں جاری کی جائیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئین آصف زرداری پارلیمنٹ پاکستان سیکریٹریٹ سینیٹ صدر مملکت قومی اسمبلی مشترکہ اجلاس نوٹیفکیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ پاکستان سیکریٹریٹ سینیٹ صدر مملکت قومی اسمبلی مشترکہ اجلاس نوٹیفکیشن مشترکہ اجلاس قومی اسمبلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔