Jasarat News:
2026-06-02@23:47:09 GMT

ML-1 ریلوے کے روشن مستقبل کی نوید

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260126-03-7
گزشتہ دنوں ’’ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں مین لائن ون (ایم ایل1-) منصوبے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ ایک بڑا ریلوے انفرا اسٹرکچر منصوبہ ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور تک پاکستان کی موجودہ ریلوے لائن کو اپ گریڈ اور جدید بنایا جائے گا۔ گوادر پرو کے مطابق ایم ایل- 1 کے کراچی روہڑی سیکشن کا سنگ بنیاد جولائی 2026 میں رکھا جائے گا‘‘۔ ایم ایل ون پاکستان کا وہ بنیادی منصوبہ ہے جس کا ذکر برسوں سے ہوتا آرہا ہے مگر عملی پیش رفت تاخیر کا شکار رہی، یہ تاخیر محض ایک ریلوے لائن تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سی پیک کے پورے تصور کوسست روی میں مبتلا کیے رکھا۔ حالانکہ ابتدا ہی سے یہ واضح تھا کہ جب تک ملک کا مرکزی ریلوے ڈھانچہ جدید نہیں ہوگا، علاقائی تجارت، صنعتی توسیع اور ترسیل کا خواب ادھورا رہے گا۔ ایم ایل ون کراچی سے پشاور تک ایک محفوظ، تیز رفتار اور جدید ریلوے نظام نہ صرف لاگت کم کرے گا بلکہ صنعتوں کو بندر گاہوں، منڈیوں اور سرحدی راستوں سے موثر طور پر جوڑ دے گا۔ یہی وہ ربط ہے جس کے بغیر سی پیک کے حقیقی ثمرات سامنے نہیں آسکتے۔ اس منصوبے پر پیش رفت اس لیے بھی امید افزا ہے کہ اس سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔ تعمیر سے لے کر آپریشن تک، مقامی افرادی قوت کو شامل کرنے کا موقع ملے گا۔ ساتھ ہی ریلوے کے گرد صنعتی زونز، گودام اور لاجسٹک مراکز وجود میں آئیں گے۔

اگر یہ منصوبہ بروقت اور شفاف انداز میں آگے بڑھا تو پاکستان کے لیے صنعتی ترقی اور علاقائی رابطے کا نیا باب کھل سکتا ہے۔ حالانکہ 2020ء میں قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے پاکستان اور چین کے درمیان لاگت شیئرنگ کی بنیاد پر کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن (ایم ایل ون) کی اپ گریڈیشن کی منظوری دے دی تھی۔ دنیا بھر میں ٹرین کارگو مصنوعات کی ارزاں منتقلی کا اولین ذریعہ مانا جاتا ہے مگر بد قسمتی سے قیام پاکستان کے بعد پاکستان ریلوے کو سیاسی وجوہ پر مسلسل نظر انداز کیا گیا جس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے نئی لائنیں بچھانا تو دور کی بات پرانی ریلوے لائینوں کی مرمت اور توسیع کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہ دی۔ ایم ایل ون ریلوے لائن منصوبے کے1ہزار 872 کلومیٹر طویل ٹریک کے عملی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ایم ایل ون منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور اور ٹیکسلا سے حویلیاں تک ریلوے ٹریک کو اپ گریڈاور ڈبل کیا جائے گا، حیدرآباد سے ملتان کے درمیان طویل ترین 749 کلومیٹر کا ٹریک بھی ڈبل اور اپ گریڈ ہو گا۔ نئے اور بہتر ریلوے ٹریکس سے مسافر ٹرینوں کی رفتار 110 سے بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ یہ منصوبہ 1 سے 2 لاکھ مقامی افراد کو روزگار فراہم کرے گا۔ سی پیک کے تحت چین کے تعاون سے ایم ایل ون منصوبہ کی تکمیل کے بعد نہ صرف ریلوے کے نظام میں بہتری آئے گی اور 24 گھنٹوں کا سفر 7 گھنٹوں میں طے ہوگا بلکہ انڈر اور اوور ہیڈ پاسز کی تعمیر سے حادثات کا اندیشہ بھی ختم ہو جائے گا۔

گوادر پورٹ پر سی پیک منصوبے کے تحت کام تیز رفتاری سے جاری ہے اور ملک کی اہم شاہراؤں کو گوادر پورٹ سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ بھاشا ڈیم کا میگا پروجیکٹ اور وہاں پر بجلی کی پیداوار کا منصوبہ بھی سی پیک کا حصہ ہے اور اب سی پیک منصوبوں میں ایک نیا منصوبہ ریلوے لائن ایم ایل ون ہے جس سے ذرائع آمدورفت اور سامان کی نقل وحمل میں انقلاب برپا ہوگا۔ سی پیک منصوبوں کے تحت پورے ملک میں سڑکوں کاجال بچھایا جا رہا ہے جبکہ ریلوے کی اپ گریڈیشن سے سی پیک کے ثمرات خطے کے دوسرے ممالک کو بھی ہوں گے جس سے یہ پورا خطہ ترقی کرے گا۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ اور ترقی پزیر ممالک اپنے شہریوں کو بلا امتیاز بہترین سفری سہولت کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی عوام آرام دہ اور بہترین سہولتوں کے ساتھ کم از کم منزل مقصود پر پہنچ سکیں۔ بلٹ ٹرین اس کی ایک مثال ہے جس کی رفتار 500 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر کبھی ہمارے ملک میں یہ ٹرین چل سکی تو کراچی سے پشاور کا سفر تین سے چار گھنٹے کا ہوگا۔ جو کہ ہمارے لیے ایک خواب ہے۔ خدا کرے کہ یہ خواب جلد از جلد شرمند تعبیر ہو۔ پاکستان کے قدیم دوست چین کے تعاون سے ریلوے کی جدت، تعمیر وترقی کے منصوبے کا آج کل ہر طرف شہرہ ہے اس سے مراد پشاور سے کراچی تک ریلوے لائن براستہ لاہور اور ملتان ہے جس کا فاصلہ تقریباً1681کلومیٹر ہے۔

پاکستان ریلوے کا قیام برٹش دورِ حکومت میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہوا اور ریلوے کی پہلی ٹرین کراچی سٹی اور کوٹری سٹی کے درمیان 13 مئی 1861 عوام کے لیے کھولی گئی۔ پاکستان ریلوے قومی، دفاعی اور فلاحی ادارہ ہے۔ اس ادارے سے اس ملک کا دفاع بھی منسلک ہے اور اس ادارے کے ذریعے ہی عام حالات اور جنگ کے دوران اسلحے کی نقل و حرکت ریلوے کی ٹرینوں کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔ بلا شبہ پاکستان ریلوے سب سے سستا، محفوظ، آرام دہ اور آلودگی سے پاک ذریعہ ہے۔ اس طرح پاکستان ریلوے ملکی معیشت اور دفاع میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور درحقیقت پاکستان ریلوے چاروں صوبوں کی زنجیر ہے۔ دنیا میں اس وقت مال گاڑیاں 25 ٹن ایکسل لوڈ کے ساتھ چلتی ہیں جبکہ ہمارا ٹریک 22 ٹن سے زیادہ لوڈ برداشت کرنے کا اہل نہیں۔ ان حالات میں ML-1 کا منصوبہ سی پیک کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا بھر میں ریلوے کو کم سے کم ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والا ٹرانسپورٹ کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔ جب 136 گاڑیاں ML-1 پر چلیں گی تو بہت سا وہ فریٹ جو سڑک کے ذریعے ٹرانسپورٹ ہوتا ہے وہ ریلوے پر منتقل ہونا شروع ہوجائے گا اور ریلوے کی آمدن میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔ اس وقت ملک کا صرف 4 فی صد حصہ کراچی سے بذریعہ ریل اٹھایا جاتا ہے جبکہ بقایا تمام فریٹ روڈ پر چلا جاتا ہے۔ ML-1 کے بعد یہ حصہ تقریباً20 فی صد ہونے کی توقع ہے جس سے سڑکوں پر ٹریفک بھی کم ہوجائے گی اور حادثات میں بھی کمی ہوگی۔ اس سے نہ صرف آلودگی میں کمی آئے گی بلکہ ڈیزل کی درآمد پر بھی بہت خوشگوار اثر پڑے گا کیونکہ ریلوے سڑک کے مقابلے میں پانچ گناہ ایندھن کم استعمال کرتا ہے۔ ان حالات میں ML-1 منصوبہ ایک نعمت اور انقلاب سے کم نہیں۔ ML-1، 9 سال میں مکمل ہوجائے گا، مکمل ہونے کے بعد کراچی سے پشاور سفر کا دورانیہ 15 گھنٹے رہ جائے گا جبکہ لاہور اور راولپنڈی کا دورانیہ اڑھائی گھنٹے، لاہور سے کراچی 10 گھنٹے، لاہور سے ملتان 3 گھنٹے، اسی طرح پنڈی سے پشاور پونے دو گھنٹے رہ جائے گا۔ ان شا اللہ آنے والے وقت میں پاکستان ریلوے کا شمار دنیا کی اہم ترین ریلوے میں ہوگا اور یہ ایشیا کے نیٹ ورک کا بہت اہم حصہ بن جائے گا۔

ضیا الحق سرحدی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کراچی سے پشاور پاکستان ریلوے ریلوے لائن ایم ایل ون منصوبے کے سی پیک کے ریلوے کی جاتا ہے جائے گا کے تحت کے لیے کے بعد

پڑھیں:

وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل  جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔

یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم