بلوچستان حکومت کا بڑا انتظامی فیصلہ، محکمہ مذہبی امور تحلیل کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
بلوچستان حکومت نے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے صوبائی محکمہ مذہبی امور کو ختم کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف کا اسلام آباد گیس دھماکا متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمہ مذہبی امور کے خاتمے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن آئندہ ایک ہفتے کے اندر جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعد صوبائی سیکریٹریٹ میں تعینات ملازمین کو محکمہ نظم و نسق کے حوالے کر دیا جائے گا۔
اسامیاں ختمحکومتی فیصلے کے بعد محکمہ مذہبی امور سے وابستہ تقریباً 450 سرکاری اسامیاں ختم ہو گئی ہیں جبکہ محکمے کی تمام جائیدادیں، دفاتر، گاڑیاں اور دیگر اثاثے بورڈ آف ریونیو کے حوالے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیے: حج کوٹہ 2 لاکھ 30 ہزار کرنے کے لیے سعودی حکام سے رابطے میں ہیں، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف
اضلاع میں تعینات عملہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت جبکہ ڈویژنل سطح پر کام کرنے والا عملہ کمشنرز کو رپورٹ کرے گا۔
فنڈز منتقلرپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں محکمہ مذہبی امور کے تحت موجود زکوٰۃ فنڈ میں جمع تقریباً 4 ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بلوچستان حکومت محکمہ مذہبی امور محکمہ مذہبی امور تحلیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان حکومت محکمہ مذہبی امور تحلیل
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔