غزہ بورڈ آف پیس میں اصل اختیار ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوگا، امریکی اخبار کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں طاقت کا اصل منبع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔
اخبار کے مطابق بورڈ آف پیس کی قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ کا انتظامی کنٹرول امریکا کے پاس ہوگا جبکہ آئندہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین کی نامزدگی کا مکمل اختیار بھی صدر ٹرمپ کو حاصل ہوگا۔
اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شامل دیگر ممالک کا کردار بنیادی طور پر معاون نوعیت کا ہوگا اور فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت امریکا کو حاصل رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا غزہ کے انتظامی اور پالیسی معاملات میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیے، انڈونیشیا، بحرین، مصر، اردن، قازقستان، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، ہنگری، کوسوو، مراکش اور ویتنام نے بھی بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب اٹلی اور اسپین نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث اس فورم کے کردار اور اختیارات سے متعلق عالمی سطح پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غزہ بورڈ آف پیس میں
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔