data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں طاقت کا اصل منبع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔

اخبار کے مطابق بورڈ آف پیس کی قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ کا انتظامی کنٹرول امریکا کے پاس ہوگا جبکہ آئندہ بورڈ آف پیس کے چیئرمین کی نامزدگی کا مکمل اختیار بھی صدر ٹرمپ کو حاصل ہوگا۔

اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شامل دیگر ممالک کا کردار بنیادی طور پر معاون نوعیت کا ہوگا اور فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت امریکا کو حاصل رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا غزہ کے انتظامی اور پالیسی معاملات میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیے، انڈونیشیا، بحرین، مصر، اردن، قازقستان، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، ہنگری، کوسوو، مراکش اور ویتنام نے بھی بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب اٹلی اور اسپین نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث اس فورم کے کردار اور اختیارات سے متعلق عالمی سطح پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غزہ بورڈ آف پیس میں

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان