فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر استعمال کرنے والے کسٹمز افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز نے مشاہدہ کیا ہے کہ متعدد افسران نے اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر سرگرم رہ کر سرکاری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ بورڈ نے ایسے طرزِ عمل کو “غیر اخلاقی رویہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز، 1964 کے زمرے میں آتا ہے۔ایف بی آر نے تمام فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے میں ایستبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ متعلقہ آفس میمورنڈمز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری ہر صورت لازم ہے۔نوٹیفکیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے.

تاکہ سرکاری اداروں کی نمائندگی کے دوران آن لائن مناسب پروٹوکول اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔یہ اقدام ایف بی آر کی اس مسلسل کوشش کا عکاس ہے کہ سرکاری اہلکار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کے دوران پیشہ ورانہ، ذمہ دارانہ اور اخلاقی رویہ برقرار رکھیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ایف بی آر

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل