ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے: عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 29th, January 2026 GMT
ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے: عباس عراقچی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 January, 2026 سب نیوز
تہران: (آئی پی ایس) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ہم اپنی سر زمین کا دفاع ہر قیمت پر کریں گے، 12 روزہ جنگ نے ہمیں مزید مضبوط اور طاقتور کیا، ایران نے ہمیشہ منصفانہ جوہری معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔
عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ پُرامن جوہری پروگرام ایران کا حق ہے، ہم نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان میں نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کا خدشہ، الرٹ جاری پاکستان میں نیپا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کا خدشہ، الرٹ جاری حماس کا غزہ کی حکومت فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنے کا اعلان، رفح بارڈر فوری کھولنے کا مطالبہ پاکستان کی مسلح افواج ہر خطرے کے خلاف مکمل طور پر تیار ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر سکھر، گڈو بیراج مرمتی منصوبہ: نیب سکھر نے مبینہ تحقیقات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا پاکستان اوور سیز ایمپلائمنٹ ایسو سی ایشن کے چیئرمین سید رحمت علی شاہ اور رہنما شکیل عباسی کی سعودی قونصل ڈاکٹر حمد بن ماہر... صدر مملکت کی دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات، برادرانہ تعلقات مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عباس عراقچی
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔