لاہور کے علاقے بھاٹی چوک میں ماں اور بچی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر ڈائریکٹر جنرل ایل ڈی اے نے سخت کارروائی کرتے ہوئے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا ہے۔

معطل کیے جانے والے افسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں، جبکہ منصوبے کے کنٹریکٹر کے خلاف فوری مقدمہ درج کرانے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔

واقعے پر غفلت کے الزامات کے تحت کنٹریکٹر، متعلقہ نجی کمپنی اور ریزیڈنٹ انجینئر نیسپاک کو بھی شو کاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے لاہور، سیوریج لائن میں گرنے والی ماں اور بچی کی لاشیں برآمد، تحقیقات کا آغاز

انتظامیہ کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ ماں بیٹی کے سیوریج مین ہول میں گرنے کا افسوسناک واقعہ بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے سامنے گزشتہ رات پیش آیا، جہاں ترقیاتی کام جاری تھا اور سیوریج مین ہول کھلا ہوا تھا۔

متاثرہ خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ دربار پر حاضری کے بعد رکشے سے اتر رہی تھیں کہ اچانک پاؤں پھسلنے کے باعث دونوں کھلے مین ہول میں جا گریں۔

اہلِ خانہ کے مطابق مین ہول تقریباً 20 سے 25 فٹ گہرا تھا اور اس پر کوئی ڈھکن موجود نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے ماں اور بچی کے سانحے پر وزیراعلیٰ مریم نواز شدید رنجیدہ، غفلت کے مرتکب کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

وی نیوز سے خصوصی انٹرویو میں خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد 1122 کو اطلاع دی گئی، تاہم ریسکیو ٹیم مقررہ وقت سے تاخیر سے پہنچی۔ بعد ازاں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جبکہ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (WASA) کے اہلکار بھی موقع پر پہنچے۔

اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ واسا اور دیگر متعلقہ اداروں نے واقعے کے فوراً بعد یہ مؤقف اختیار کر لیا کہ یہاں کوئی حادثہ پیش ہی نہیں آیا، اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ مین ہول اتنا تنگ ہے کہ کوئی اس میں گر ہی نہیں سکتا۔

یہ بھی پڑھیے بھاٹی گیٹ حادثہ: جاں بحق خاتون کے بھائی اور بچی کے ماموں کا غلط خبر پھیلانے والے اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا اعلان

متاثرہ خاندان کے مطابق یہ بیانیہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور صرف ادارہ جاتی غفلت چھپانے کے لیے پھیلایا گیا۔

متاثرہ خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ ’فیک نیوز‘ کے دعوے کی بنیاد پر پولیس نے خاتون کے شوہر اور رکشہ ڈرائیور، جو کہ خاندان کا ہی فرد تھا، کو حراست میں لے کر تفتیش کی۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ وہ خود ایک بڑے سانحے سے گزر رہے تھے۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز (DIG Operations Lahore) کی سطح پر معاملے کا نوٹس لیا گیا، جس کے بعد متاثرہ خاندان سے رابطہ بحال ہوا اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایل ڈی اے سانحہ بھاٹی گیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایل ڈی اے سانحہ بھاٹی گیٹ اور بچی کے کے مطابق مین ہول

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار