data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 8 میں خیابانِ اتحاد پر نصب ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرین پر نازیبا ویڈیو چلنے کے واقعے میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعے کا مقدمہ گزشتہ روز گزری تھانے میں درج کیا گیا تھا، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملزم تک رسائی حاصل کی گئی،گرفتار ملزم کا تعلق اسی ایڈورٹائزنگ کمپنی سے ہے جس کی جانب سے مذکورہ ڈیجیٹل اسکرین آپریٹ کی جا رہی تھی۔

 ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم کمپنی میں بطور ملازم کام کر رہا تھا اور اسے اسکرین کے کنٹرول سسٹم تک رسائی حاصل تھی، جس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے وقفے وقفے سے غیر اخلاقی ویڈیو کلپس نشر کیے، ایڈورٹائزنگ کمپنی کے آپریشن ڈائریکٹر نے پولیس کو فون پر اطلاع دی کہ فیز 8 میں نصب ایس ایم ڈی اسکرین پر اچانک نازیبا مواد چلنا شروع ہو گیا ہے۔

 اطلاع ملتے ہی کمپنی انتظامیہ نے فوری طور پر اسکرین کو بند کروا دیا تاکہ مزید کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے، بعد ازاں پولیس کو واقعے سے آگاہ کیا گیا، جس پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق واقعے کی حساسیت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور ڈی ایچ اے کی اہم شاہراہوں کے علاوہ شاہراہِ فیصل اور کارساز روڈ پر نصب متعدد ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ کسی بھی ممکنہ تکنیکی یا انسانی غلطی کے باعث عوامی مقامات پر غیر اخلاقی مواد نشر نہ ہو سکے۔

مزید بتایا گیا کہ پولیس اور متعلقہ ادارے ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ اسکرینز کے سسٹمز کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکیں، ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اگر اس واقعے میں کسی اور فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

شہریوں کی جانب سے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی مقامات پر نصب ڈیجیٹل اسکرینز کی مانیٹرنگ اور سیکیورٹی کے نظام کو مزید سخت بنایا جائے تاکہ اس نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار