Jasarat News:
2026-06-03@05:38:50 GMT

جماعت اسلامی کا سندھ اسمبلی پر دھرنا

اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

شاہراہ فیصل پر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں 14 فروری کو سندھ اسمبلی پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کر کے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو اپنے مدمقابل لاکھڑا کیا ہے۔ سندھ حکومت نے سب سے پہلے شاہراہ فیصل پر ہونے والے احتجاجی دھرنے پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان اور ان کے ساتھیوں پر مقدمات قائم کیے گئے۔ 8 فروری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پرامن پریس کانفرنس کے دوران قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی فرحان سمیت 19 افراد گرفتار کر لیے گئے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے سیاسی ٹمپریچر میں شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی نے اس سے قبل بھی سندھ اسمبلی پر 29 دنوں کا دھرنا دیا تھا اور وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ حکومت کے وزراء کی یقین دہانیوں پر یہ دھرنا ختم ہوا تھا۔ اب جب کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں بدترین آگ لگی اور اس آگ میں 70 سے زائد اموات اور تاجروں کا اربوں کھربوں روپے کا مال جل کر خاکستر ہوگیا تھا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور میئر کراچی کی کارکردگی پر پورا ملک چیخ اٹھا اور وزیر اعلیٰ سندھ، میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے دفاع میں ناکام رہی اور اسے چاروں طرف سے شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جماعت اسلامی جس نے بلدیاتی انتخابات میں کراچی میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ تحریک انصاف کی حمایت کے بعد کراچی میں جماعت اسلامی کی میئر شپ پکی تھی لیکن پھر جمہوریت کی چمپئن پیپلز پارٹی نے جو گل کہلائے اور جماعت اسلامی کی میئر شپ پر جو شب خوں مارا اس نے پیپلز پارٹی کا چہرہ ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا۔ اب جب کے شہرکے حالات روز بروز ابتر ہوتے جارہے ہیں اور ایسے حالات میں جماعت اسلامی کے ارکین کی جانب سے میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جارہی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایوان میں قائد حزب اختلاف سیف الدین ایڈووکیٹ سے مسلم لیگ ن کے چیئرمینوں کے گروپ نے ملاقات کی اور میئر کراچی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی دوڑیں لگ گئی ہیں۔ مسلم لیگ ن اگر واقعی میئر کو ہٹانے میں سنجیدہ ہے تو پھرکوئی تبدیلی یقینی ہوسکتی ہے لیکن اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن سندھ میں اپنا گورنر لانا چاہتی ہے اور وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کو امید ہے کہ پیلز پارٹی اپنی میئر شپ بچانے کے لیے ن لیگ کے گورنر کی حمایت پر مجبور ہوجائے گی۔

سندھ میں شطرنج کی بساط بچھائی جا چکی ہے اور مہرے اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ سندھ حکومت اپنی نااہلی کی وجہ سے عوام کی نظروں سے گرتی جا رہی ہے۔ کچے اور پکے کے ڈاکوئوں نے عوام کا جینا حرام کیا ہوا ہے۔ کراچی جو کہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اس شہر کے باسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ نہ انہیں پینے کا صاف پانی مل رہا ہے نہ ہی بہتر ٹرانسپورٹ، نہ سیوریج کا کوئی سسٹم، یہاں کی سڑکیں موہن جو دوڑو کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ یہاں کا تعلیم یافتہ اعلیٰ ڈگری کا حامل نوجوان مایوسی کا شکار ہے اس پر مکمل طور پر روزگار کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ جس پر وہ اپنے بہتر مستقبل کے لیے بیرون ملک جانے پر مجبور ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر نوجوان بیرون ملک روزگار کے حصول کے لیے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اہل کراچی کو 14 فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنے کی کال دی ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ جمہوری اطوار اختیار کرے اور جماعت اسلامی کو احتجاج کا اپنا جمہوری حق استعمال کرنے دے ورنہ طاقت کے بے جا استعمال سے حالات کے خراب ہونے کا اندیشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جماعت اسلامی نے اس سے قبل بھی 29 روز کا سندھ اسمبلی پر دھرنا دیا تھا اور نہ ایک پتھر مارا گیا اور نہ ہی کوئی شیشہ ٹوٹا۔ لہٰذا حالات کا تقاضا ہے کے ٹھنڈے دل کے ساتھ کراچی کے شہریوں کی آوازکو سنا جائے اور کراچی کے بنیادی مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں ورنہ کراچی کے مظلوم شہریوں کے صبر کا پیمانہ اگر لبریز ہوگیا تو پھر ان کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

قاسم جمال سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی پیپلز پارٹی میئر کراچی سندھ حکومت مسلم لیگ ن کراچی کے رہی ہے

پڑھیں:

فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔

ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟ 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا