حیدرآباد: پی سی بی ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، نیاز اسٹیڈیم میں ٹرائلز جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
حیدرآباد (نیوزڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے فیوچر اسٹار ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت نیاز اسٹیڈیم میں ٹرائلز کا انعقاد کیا گیا۔ ٹرائلز کی نگرانی سابق ٹیسٹ کرکٹر اور پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کر رہے ہیں۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ یہ پی سی بی کا فیوچر اسٹار ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام ہے، جو بچے کلب اور اکیڈمیز میں ریگیولر نہیں جا سکتے ان کے لئے بھی اپرچیونٹی ہے، کل پھر ٹرائلز ہیں، ہم نے 20 سے 24 لڑکے سلیکٹ کرنے ہیں، انہیں 1 ماہ ٹریننگ ملے گی، ان میں جو آوٹ اسٹینڈنگ ٹیلنٹ ہو گا وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی تک پہنچے گا۔
عاقب جاوید نے کہا کہ پہلے بھی ٹیلنٹ ہنٹ کیا ہے اس میں جو پلئیرز تھے وہ آج پاکستان کی ٹیم میں کھیل رہے ہیں، ہر پاکستان کے علاقے کا مختلف ٹیلنٹ ہے، یہاں سے اچھے بیٹسمین، اسپنرز کیپر ملتے رہے ہیں، اگر حیدرآباد کراچی کی فاسٹ بالنگ کو کمپئیر کروں کے پی یاپنجاب سے تو وہاں زیادہ ملیں گے، ایسانہیں کہ یہاں نہیں ہیں لیکن ریشو یہاں کم ہے، یہاں بیٹسمین، اسپنرز اور کیپرز ملیں گے۔ ابھی اسٹیج ون ہے، بچوں کے لئے اپرچیونٹی ہے۔
صحافی نے سوال کیا کہ انڈیا پاکستان میچ میں کونسی ٹیم زیادہ فیورٹ ہوگی، عاقب جاوید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی یہ ٹیم بیلنسڈ اور زبردست ہے، پاکستان نے پچھلے3،4 ماہ سے بہت اچھی کرکٹ کھیلی ہے، پاکستان کا اس بار بہت اچھا چانس ہے، حیدرآباد کراچی سکھر تین ریجن بنتے ہیں یہاں پاکستان میں ٹوٹل 18 ریجن ہیں، یہ گراونڈ خراب تھا، یہاں مئیر صاحب نے محنت کی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ پی سی بی چئیرمین نے بھی کہا ہے کہ ہر ریجن کے پاس اس کی اپنی گراؤنڈ ہونی چاہیے، سہولیات ہوں گی تو اس پر آپ کسی کو ٹرینڈ کر سکتے ہیں، رمضان کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ صحافی نے پوچھا کہ شاہنواز دھانی کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے، عاقب جاوید نے کہا کہ کوئی کسی کو نظر انداز نہیں کرتا آپ اس لئے بات کرتے ہیں کہ وہ آپ کے علاقے سے ہے، پی سی بی میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کس علاقے سے ہے ، آپ کی کرکٹ آپ کو خود سے آگے پیچھے کرتی ہے۔
دائریکٹر ہائی پرفارمنس نے کہا کہ دھانی کو ہر پاکستانی نے پسند کیا، لیکن وہاں رہنے کے لئے پرفارمنس اہمیت رکھتی ہے، جب ہم بچے تھے کرکٹ کھیلتے تھے اس وقت کوئی مستقبل نہیں تھا، آج دیکھیں تو پی ایس ایل میں 8 ٹیمیں بن چکی ہیں آگے 10 بھی بن سکتی ہیں، کل آپ نےآکشن دیکھا ہو گاکہ ایک ایک ٹورنامنٹ پلئیرزکی زندگی بدل رہا ہے، آج تو موقع ہے بچوں کے پاس کہ ایسا کیرئیر کوئی ہے ہی نہیں، پوری دنیا میں لیگز ہو رہی ہیں، جہاں آپ اپنا فیوچر بنا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عاقب جاوید ٹیلنٹ ہنٹ پی سی بی کہا کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔