حیدرآباد (نیوزڈیسک) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے فیوچر اسٹار ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت نیاز اسٹیڈیم میں ٹرائلز کا انعقاد کیا گیا۔ ٹرائلز کی نگرانی سابق ٹیسٹ کرکٹر اور پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کر رہے ہیں۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ یہ پی سی بی کا فیوچر اسٹار ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام ہے، جو بچے کلب اور اکیڈمیز میں ریگیولر نہیں جا سکتے ان کے لئے بھی اپرچیونٹی ہے، کل پھر ٹرائلز ہیں، ہم نے 20 سے 24 لڑکے سلیکٹ کرنے ہیں، انہیں 1 ماہ ٹریننگ ملے گی، ان میں جو آوٹ اسٹینڈنگ ٹیلنٹ ہو گا وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی تک پہنچے گا۔

عاقب جاوید نے کہا کہ پہلے بھی ٹیلنٹ ہنٹ کیا ہے اس میں جو پلئیرز تھے وہ آج پاکستان کی ٹیم میں کھیل رہے ہیں، ہر پاکستان کے علاقے کا مختلف ٹیلنٹ ہے، یہاں سے اچھے بیٹسمین، اسپنرز کیپر ملتے رہے ہیں، اگر حیدرآباد کراچی کی فاسٹ بالنگ کو کمپئیر کروں کے پی یاپنجاب سے تو وہاں زیادہ ملیں گے، ایسانہیں کہ یہاں نہیں ہیں لیکن ریشو یہاں کم ہے، یہاں بیٹسمین، اسپنرز اور کیپرز ملیں گے۔ ابھی اسٹیج ون ہے، بچوں کے لئے اپرچیونٹی ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ انڈیا پاکستان میچ میں کونسی ٹیم زیادہ فیورٹ ہوگی، عاقب جاوید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی یہ ٹیم بیلنسڈ اور زبردست ہے، پاکستان نے پچھلے3،4 ماہ سے بہت اچھی کرکٹ کھیلی ہے، پاکستان کا اس بار بہت اچھا چانس ہے، حیدرآباد کراچی سکھر تین ریجن بنتے ہیں یہاں پاکستان میں ٹوٹل 18 ریجن ہیں، یہ گراونڈ خراب تھا، یہاں مئیر صاحب نے محنت کی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ پی سی بی چئیرمین نے بھی کہا ہے کہ ہر ریجن کے پاس اس کی اپنی گراؤنڈ ہونی چاہیے، سہولیات ہوں گی تو اس پر آپ کسی کو ٹرینڈ کر سکتے ہیں، رمضان کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ صحافی نے پوچھا کہ شاہنواز دھانی کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے، عاقب جاوید نے کہا کہ کوئی کسی کو نظر انداز نہیں کرتا آپ اس لئے بات کرتے ہیں کہ وہ آپ کے علاقے سے ہے، پی سی بی میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کس علاقے سے ہے ، آپ کی کرکٹ آپ کو خود سے آگے پیچھے کرتی ہے۔

دائریکٹر ہائی پرفارمنس نے کہا کہ دھانی کو ہر پاکستانی نے پسند کیا، لیکن وہاں رہنے کے لئے پرفارمنس اہمیت رکھتی ہے، جب ہم بچے تھے کرکٹ کھیلتے تھے اس وقت کوئی مستقبل نہیں تھا، آج دیکھیں تو پی ایس ایل میں 8 ٹیمیں بن چکی ہیں آگے 10 بھی بن سکتی ہیں، کل آپ نےآکشن دیکھا ہو گاکہ ایک ایک ٹورنامنٹ پلئیرزکی زندگی بدل رہا ہے، آج تو موقع ہے بچوں کے پاس کہ ایسا کیرئیر کوئی ہے ہی نہیں، پوری دنیا میں لیگز ہو رہی ہیں، جہاں آپ اپنا فیوچر بنا سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: عاقب جاوید ٹیلنٹ ہنٹ پی سی بی کہا کہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ