عطا تارڑ کی عمران خان سے ڈیل کی خبروں کی سخت تردید، رعایت کا تاثر غلط قرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کسی بھی قسم کی ڈیل سے متعلق خبروں کو ایک بار پھر سختی سے مسترد کردیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے زیر گردش تمام خبریں بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے نہ کوئی ڈیل ہوئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں اور انہیں کسی خصوصی رعایت دینے کا تاثر دینا بالکل غلط ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رعایت سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں صرف قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔ حکومت کا مؤقف واضح ہے اور قانون کے مطابق ہی تمام معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے دو روز قبل بھی ان خبروں کی تردید کی تھی اور اپوزیشن کو تنبیہ کی تھی کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے اور اس حساس مسئلے کو غیر ضروری طور پر متنازع نہ بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ