بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہے، خطے میں بالادستی کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہے، خطے میں بالادستی کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے، اسحاق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 4 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور خطے میں بالادستی کے بھارت کے دعوے ہوا ہو چکے ہیں۔
صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا کہ حالیہ دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ کے ساتھ باہمی ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے ادوار بھی ہوئے۔ یہ دورہ 10 مئی کے بعد چین کا شکریہ ادا کرنے کے لیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ثالثی تنظیم کے حوالے سے ملاقات پہلے ہی طے تھی۔ 10 یا 11 مئی کی رات کو وزارت خارجہ نے اس دورے پر ٹویٹ بھی کیا جب کہ وزیر اعظم کی جانب سے پہلگام پر آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کو چینی حکام نے سراہا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولا، آج بھارت میں پاکستان کی سفارتی کامیابی پر صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ عالمی برادری ہماری پوزیشن کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دوست ممالک کو آگاہ کیا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا ہم پر الزام لگایا۔ اب پوری دنیا پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کررہی ہے۔ بھارتی جارحیت پر چین نے پاکستان کے مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹ بولا۔ خطے میں بالادستی کے بھارتی دعوے ہوا میں اڑ گئے۔ پاکستان نے مؤثر اندز میں حقائق دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا سفارتی وفد واشنگٹن گیا ہے۔ بلاول بھٹو کی قیادت میں وفد پاکستانی مؤقف اجاگر کرنے لیے عالمی دورے پر ہے اور دنیا نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی تعریف بھی کی ہے۔ ہم نے سفارتی محاذ پر تمام ممالک کو اہمیت دی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ روس کو بالکل نظر انداز نہیں کیا گیا۔ ایک وفد روس میں بھی موجود ہے۔دوسری طرف بھارت کا تین چار درجن پر مبنی ایک وفد بھی بھارتی موقف پیش کر رہا ہے، تاہم ہمارے موقف کی ساکھ اور صداقت بہترین ہے۔ بھارت نے ایف 16 اڑانے کا الزام لگایا، ہم نے اس الزام کی تردید کی اور دنیا نے خود اس کی حقیقت کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ترکیہ میں دو طرفہ ملاقاتیں بہت اچھی رہیں۔ ہم نے 23 اپریل سے 11 مئی تک دنیا کو پوزیشن واضح کی ہے۔ دنیا جانتی ہے پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں اور بھارتی جارحیت کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعظم خود ترکیہ پہنچے، اس وفد میں وزرا بھی شامل تھے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس وفد کا حصہ تھے۔ ترکیہ کا ایک روزہ دورہ تھا، جہاں تمام ملاقاتیں مفید رہیں۔ ہم نے ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ترکیہ میں صدر اِردوان، وزیر خارجہ اور ان کی پوری ٹیم تھی۔
انہوں نے بتایا کہ 6 مئی کو مجھے کال آئی کہ بھارت نے حملہ کیا ہے اور بھارتی جیٹ ہوا میں ہیں۔ سب سے پہلی کال ترکیہ کی آئی کہ ہمیں بتائیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہیں پتا تھا کہ یہ معاملہ اگر آگے نکلا تو بات بگڑ جاے گی۔ ترکیہ کے صدر نے اچھا کردار ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ترکیہ صدر کے دورہ میں ایک نیا فورم بنایا گیا تھا جو کہ متعدد کمیٹیوں کی نگرانی کرے گا۔ ترکیہ کےبعد ایران پہنچے جہاں ایرانی صدر نے گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اس خطے میں تجارت بڑھانے کی بات کی۔ ای سی او پر بات ہوئی۔ اقتصادی تعاون تنظیم کا اگلا سربراہ اجلاس آذربائیجان میں ہونے جا رہا ہے، ہم اس اجلاس میں شرکت بھی کریں گے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بحرانی صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ بھارتی میڈیا نے ان کے دورہ کو منفی پیش کیا۔ ہماری ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کشمیر اور فلسطین پر کھل کر بات کی۔ ایران میں ملاقاتوں میں دونوں ممالک کا موقف یکساں تھا اور کوئی اختلاف نہیں تھا۔ انہوں نے دہشت گردی پر کہا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی 6 جیٹ فائٹر طیارے گرے، جن میں ایک یو اے وی تھا۔ ان 6 میں 3 رافیل طیارے تھے ۔ بھارتی وزیراعظم نے پلواما کے بعد کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس رافیل ہوتے تو میں دیکھ لیتا۔ الحمدللہ! اللہ نے ہمیں عزت دی۔ آذربائیجان میں تو عوام ہماری فتح پر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ 28 مئی کو آذربائیجان کا یوم آزادی تھا۔ آرمینیا کے ساتھ جنگ میں انہوں نے لاچن میں ایک نیا ائیرپورٹ بنایا ہے۔ ہم اور ترکیہ کے صدر اس علاقے میں اس ائیرپورٹ پر اترنے والی پہلی پرواز تھے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں بیانیہ ناکام ہونے پر اب آپس میں چپقلش شروع ہو چکی ہے۔ اگر علاقائی سالمیت اور قومی مفاد کی بات ہو گی تو ہم سب متحد ہیں اور یہ بات ہم نے ثابت کی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر اعظم شہبازشریف کل سعودی عرب کا اہم دورہ کریں گے وزیراعظم کی گوادر کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کا کام تیز کرنے کی ہدایت سوئی ناردرن گیس کے کوہ پیما کا ایک اور تاریخی سفر: اشرف سدپارہ کی نانگا پربت سر کرنے کے لیے روانگی آئی ایم ایف؛ منقولہ اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کی تجویز مسترد، ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کی اجازت ایران کے سرحدی شہر سرباز میں 2 پاکستانیوں کو قتل کردیا گیا پاکستان سے بدترین شکست؛ بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے فوج کی نااہلی کا پول کھول دیا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس آج طلب، بجٹ اہداف کی منظوری دی جائے گیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خطے میں بالادستی کے انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے کہ بھارت نے نے پاکستان ماتم بچھی بھارت میں دعوے ہوا ہوا میں تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔