TEHRAN:

عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل سے ایران میں داخل ہونے کے بعد مذہب تبدیل کرکے موساد کے لیے جاسوسی کے ذریعے کشیدگی پھیلانے والی خاتون تہران میں اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کرنے اور کارروائیوں کے بعد کامیابی سے فرار بھی ہوگئیں۔

بین الاقوامی کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کی خاتون جاسوس دو سال قبل خفیہ طریقے سے ایران میں داخل ہوئیں اور اس کے بعد مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوگئیں اور آہستہ آہستہ ایران کے اعلیٰ عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کی قربت حاصل کی۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ موساد کی خاتون جاسوس کا نام کیتھرین پیریز شیکدام ہے اور بنیادی طور پر ان کا تعلق فرانس سے ہیں اور اعلیٰ تربیت یافتہ جاسوس ہیں۔

موساد کی جاسوس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ ذہین، خوب رو اور بے باک شخصیت رکھتی ہیں جس کے باعث وہ ایک کامیاب جاسوس ہیں، ان کی چالاک منصوبہ بندی سے ایران کی انتہائی سخت سیکیورٹی ادارے بھی دھوکا کھا گئے۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ کیتھرین نے پہلے دعویٰ کیا کہ وہ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں، وہ شیعہ مسلمان ہوگئیں اور ملاقات شروع کی اور ایرانی حکومتی عہدیداروں کی بیگمات سے بات چیت کرتی رہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایرانی عہدیداروں اور ان کی بیگمات کا اعتماد حاصل کیا اور ان کے گھروں میں مستقل آتی جاتی رہیں اور مہمان کے طور پر ان کا احترام کیا جاتا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان پر اعتماد کیا جاتا تھا اور یہاں تک کہ وہ گھروں اور مختلف علاقوں میں نجی مقامات میں بھی داخل ہوجاتی تھیں جہاں عام طور پر سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے جاتے تھے اور ایرانی خفیہ ایجنسیاں بڑی احتیاط سے فونز اور مہمانوں کی تلاشی لیتی تھیں لیکن کیتھرین خاموشی سے تصاویر کھینچتی تھیں اور خفیہ معلومات جمع کرتی تھیں اور وہ تمام معلومات موساد کو ارسال کردیتی تھیں۔

موساد کی خاتون جاسوس کی خفیہ سرگرمیوں کے حوالے سے رپورٹس میں بتایا گیا کہ وہ اسلام سے متعلق معلومات حاصل کرنے بہانے اعلیٰ حکام کو چقمہ دیتی تھیں اور یہاں تک اسلام قبول کرنے کا بھی یقین دلایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق جیسے ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں اضافہ ہوا تو ایران کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے اپنی رہائش تبدیل کردی تھیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ محفوظ نہیں ہیں لیکن جب بھی حملہ ہوتا وہ نشانے پر ہوتا اور ایسا لگتا تھا کہ کوئی اسرائیل کو اس مقام کا تفصیلی نقشہ بھیج رہا ہوں۔

ایران کی خفیہ سروس نے تفتیش شروع کی تو آہستہ سچائی سامنے آئی، عہدیداروں ساتھ بنائی گئیں تصاویر کی وجہ سے کیتھرین کی شناخت کر لی گئیں لیکن اس وقت تک دیر ہوچکی تھی اور وہ فرار ہوچکی تھیں۔

موساد کی خاتون جاسوس اب کہاں ہے؟

عالمی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں بتایا کہ کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت وہ کہاں ہیں کیونکہ کیتھرین اچانک بالکل غائب ہوگئی ہیں، ایران کی خفیہ ایجنسی نے ملک بھر میں ان کے پوسٹرز اور تصاویر پھیلا دی ہیں لیکن ان کا کوئی نشان یا کوئی آواز نہیں ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق چند افراد کا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی شناخت تبدیل کردی ہے اور اب کسی اور ملک میں مقیم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دوسری جانب اسرائیل میں کیتھرین پیریز شیکڈام کو ان کی تاریخ کی سب سے بہادر جاسوس قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے مشن کی وجہ سے ایران کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا اور دنیا بھی حیران ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: موساد کی خاتون جاسوس رپورٹس میں بتایا میں بتایا گیا کہ سے ایران کے مطابق کی خفیہ

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی