جیکب آباد ، ڈیڑھ گھنٹے کی بارش نے انتظامی دعوے کا پول کھول دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد میں رات گئے ایک ڈیڑھ گھنٹے کی بارش نے انتظامیہ کے دعوے محض دعوے ہی رہے ، شہر کے بازار، شاہراہیں گلی، محلے تالاب بن گئے ،گھروں دکانوں میں پانی داخل ،سول اسپتال بارش کے پانی میں ڈوب گیا،صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالیاں بند ،پی ڈی ایم ایب کے الرٹ کے باوجود ضلع انتظامیہ اجلاس تک محدود رہی عملی کام نہ کیا ،12گھنٹے بجلی کا طویل بریک ڈائون۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد و گردونواح میں رات گئے ایک ڈیڑھ گھنٹے کی بارش نے انتظامیہ کے دعوے محض دعوے ہی رہے ہیں،پی ڈی ایم اے کے الرٹ جاری کرنے کے باوجود ضلع انتظامیہ صرف اجلاس تک محدود رہی عملی کام نہ کیا بارش کے بعد بروقت پانی کی نکاسی نہ کرنے پر شہرکی شاہراہیں ،بازار گلی محلے تالاب بن گئے کپڑا مارکیٹ ،شاہی بازار ،پیٹی بازار،قائد اعظم روڈ ،سول اسپتال بارش پانی میں ڈوبے رہے یہاں تک کے کشتی چوک پر ڈی سی ہائوس کے سامنے روڈ پر پانی جمع ہو گیا صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالیاں بندہونے پر پانی کی نکاسی نہ ہوسکی جس کے باعث کاروبار شدید متاثر ہوا ور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،شکایت کے باوجود بلدیہ عملہ سست روی کا شکار رہا جس سے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا اور شہری پانی خود نکالتے رہے۔ بارش کے بہانے سیپکو نے پورے شہر کو بجلی کی فراہمی معطل کردی پورا شہر تاریکی میں ڈوبا رہا اگلے دن بجلی بحال کی گئی جبکہ سٹی ٹو ،پیر بخاری سمیت دیگر فیڈرز12گھنٹے سے بند ہیں جن کی بجلی تاحال بحال نہیں کی گئی ہے بجلی کی بندش نے شہریوں کی پریشانیوں کو بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب شہریوں نے بارش کے بعد شہر کی حالت زار پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے الرٹ کے باوجود اقدامات نہ کرنا ضلعی حکام کی نااہلی ہے اس کا نوٹس لیا جائے افسران کے اجلاس کام کرنے کے لئے نہیں بلکہ فنڈز ہڑپ کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔ڈی سی نے گزشتہ روز مون سون کی بارش کے متعلق اجلاس کیا اگلے دن بارش انتظامیہ کے دعوئوں کو پانی میں بہا کر لے گئی جس کی مذمت کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیکب ا باد کے باوجود کی بارش بارش کے
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن