پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کے جیل میں 2 سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو خیبر پختونخوا میں احتجاج کیا۔ تاہم عمران خان کے نام پر ہونے والے احتجاج میں وہ جوش و جذبہ نظر نہیں آیا جو پہلے پی ٹی آئی کے مظاہروں اور جلسوں میں ہوا کرتا تھا۔

پشاور میں پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی حیات آباد ٹول پلازہ سے شروع ہوئی۔ جب وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پہنچے تو کارکنوں کی تعداد کم تھی، تاہم مختلف مقامات پر کارکنان ریلی میں شامل ہوتے گئے۔ اگر دیکھا جائے تو عمران خان کی عدم موجودگی میں علی امین کی قیادت میں کارکنان سڑکوں پر نکلے اور احتجاج کو کامیاب بنایا، لیکن وہ جذبہ نظر نہیں آیا جو عمران خان کی موجودگی میں ہوا کرتا تھا۔ ساتھ ہی احتجاجی ریلی میں پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اور کارکنوں کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی محسوس کیا گیا۔ کارکنان کو اپنی قیادت پر اعتبار نہیں رہا۔

علی امین گنڈاپور اپنے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ ریلی کے لیے حیات آباد ٹول پلازہ، رنگ روڈ پہنچے۔ ان کی آمد پر کارکنان سڑک پر جمع ہوئے اور اڈیالہ کے نعرے لگانے لگے۔ علی امین گاڑی سے نہیں اترے بلکہ سیدھا کنٹینر کی طرف بڑھ گئے۔ جب وہ کنٹینر پر بیٹھے تو ریلی کا باقاعدہ آغاز ہوا، لیکن کارکنان کا ایک ہی نعرہ تھا: اڈیالہ جیل چلو عمران خان کو رہا کرو۔

مزید پڑھیں: حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات، عمران خان سے خفیہ رابطے، 9 مئی کے مجرمان کے لیےمعافی

سخت گرمی کے باوجود کارکنان گھروں سے نکلے۔ سابق صوبائی وزیر تیمور جھگڑا اپنے حلقے کے کارکنان کو لے کر ریلی میں شریک ہوئے۔ راستے میں مختلف مقامات پر منتخب نمائندے بھی کارکنان کو ساتھ لے کر ریلی میں شامل ہوتے گئے۔ اس طرح کارکنان 6 سے 7 گھنٹے پیدل چل کر حیات آباد ٹول پلازہ سے جی ٹی روڈ قلعہ بالا حصار پہنچے، جبکہ وزیر اعلیٰ اور دیگر رہنما کنٹینر پر بیٹھے رہے۔

عمران خان کی رہائی کے لیے نکالی گئی احتجاجی ریلی جب جی ٹی روڈ، قلعہ بالا حصار کے سامنے پہنچی تو صورتحال اچانک بدل گئی۔ کارکنان کافی دیر سے وزیر اعلیٰ کا انتظار کر رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ علی امین کنٹینر پر کھڑے ہو کر خطاب کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل پیش کریں گے۔ لیکن کارکنان کو اس وقت مایوسی ہوئی جب علی امین بالا حصار کے قریب پہنچتے ہی کنٹینر سے اتر کر سرکاری پروٹوکول میں وزیراعلیٰ ہاؤس روانہ ہو گئے۔ اس پر کارکنان نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے انہیں پیچھے ہٹا دیا۔ ناراض کارکنان نے علی امین کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔

شمس خان نامی ایک کارکن نے بتایا کہ وہ کئی گھنٹوں سے کام کاج چھوڑ کر علی امین کو سننے آئے تھے، لیکن وہ تو آخر میں چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اس احتجاج کا کیا نتیجہ نکلا۔ علی امین کو بتانا چاہیے تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے وہ کیا کر رہے ہیں اور آئندہ کا کیا پلان ہے۔

مزید پڑھیں: 9 مئی : مقتدر حلقوں نے پی ٹی آئی قیادت کو پیغام دیدیا

ایک اور کارکن، علی احمد نے کہا کہ قائدین نے کارکنان کو مایوسی میں مبتلا کردیا ہے۔ ہر بار ہم نکلتے ہیں اور ہر بار مایوسی سے واپس لوٹتے ہیں، کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین ہر وقت بھاگتے ہیں۔ ڈی چوک، اسلام آباد مارچ اور اب پشاور میں بھی کارکنان کا سامنا نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے قیادت عمران خان کی رہائی میں سنجیدہ نہیں، آپس میں الجھے ہوئے ہیں اور کرسی کی لڑائی میں عمران خان کو بھول گئے ہیں۔

ذیشان نامی کارکن کا ماننا تھا کہ جلسہ کامیاب تھا۔ یہ سچ ہے کہ جتنے لوگ پہلے جلسوں میں نکلتے تھے، اب اتنے لوگ نہیں نکلتے۔ خان کی بات ہی الگ ہے۔ وہ آج ہوتے تو تعداد لاکھوں میں ہوتی۔ ورکرز فوری نتائج چاہتے ہیں جو شاید ممکن نہیں۔ علی امین ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، ہر جگہ پہنچتے ہیں، لیکن رہائی دلانا ان کے بس کی بات نہیں۔

سینیئر صحافی عارف حیات، جو پی ٹی آئی ریلی میں بھی موجود تھے، نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کارکن بے لگام ہیں اور وہ عمران خان کے سوا کسی کا لحاظ نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلی کے اختتام پر بھی کارکنوں نے علی امین کو نہیں بخشا۔ یہ قیادت پر اعتماد کا فقدان ہے۔ کارکنوں کو لگتا ہے کہ علی امین سنجیدہ نہیں ہیں، وہ کارکنوں کو نکال کر خود بھاگ جاتے ہیں، اور احتجاج کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔

مزید پڑھیں: روپوشی کے دوران کئی مرتبہ بھیس بدلا، پی ٹی آئی رہنما شیخ امتیاز

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کے آپسی اختلافات سے بھی کارکن باخبر ہیں اور اسی وجہ سے اب موجودہ قیادت پر زیادہ اعتبار نہیں رہا۔

خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ 5 اگست کو پی ٹی آئی نے پورے ملک میں احتجاج کیا۔ سختیوں اور گرفتاریوں کے باوجود بھی کارکن اور قائدین سڑکوں پر نکلے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرکے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان خان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے لیے دوبارہ بھی نکلیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل پی ٹی آئی علی امین گنڈاپور عمران خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل پی ٹی ا ئی علی امین گنڈاپور انہوں نے کہا کہ عمران خان کے عمران خان کی کارکنان کو بھی کارکن پی ٹی آئی ریلی میں علی امین ہیں اور تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج