Juraat:
2026-06-03@05:41:50 GMT

آزاد کشمیر میں عدمِ استحکام ناقابلِ قبول

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

آزاد کشمیر میں عدمِ استحکام ناقابلِ قبول

حمیداللہ بھٹی

خودنمائی ایک ایسی بیماری ہے جس کاشکار ہر وقت نمایاں ہونے کے بہانے تلاش کرتاہے ۔اِس بیماری میں مبتلا شخص خود کو سب سے ذہین اور بالاتر تصور کرتا ہے اِس لیے خواہاں ہوتا ہے کہ ہر ملنے والا جُھک کر ملے سلام کرے اور مشاورت کرے وطن عزیز جیسے ممالک میں یہ ایک لاعلاج بیماری ہے کیونکہ یہاں اکثریت کا مسئلہ باعزت روزگار ،صاف پانی وخوراک ہے ۔یہ بیماری قوم پرستوں میں بُری طرح سرایت کرچکی ہے۔ اسی لیے قوم پرست اپنے سوا کوئی ذہین شخص دیکھنے سے قاصر ہیں ۔اِس بیماری میں مبتلا بظاہر آئین پسندی کی بات کرتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ آئین کی وہی شق پسند کرتے ہیں جو خودنمائی میں مددگار ہو، اِس بیماری کے کئی مریض خیبر پختونخواہ ،بلوچستان اور سندھ میںعشروں سے سرگرم ہیں۔ عام قیاس ہے کہ انھیں بیرونی اعانت حاصل ہے۔ بدقسمتی سے یہ بیماری اب آزادکشمیر تک پھیل چکی ہے ۔احتجاج کا مقصد بظاہرعوام کو حقوق دلانا بتایا جاتا ہے لیکن اِس آڑ میں بدامنی و انتشار کو فروغ دینے کا موجب بنتے ہیں جس پر جلد قابو پانا اِس لیے بھی ضروری ہے کہ آزادکشمیر جیسا حساس علاقہ کسی نئی مُہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر یہاں خود نمائی کی بیماری میں مبتلا چند شرپسندوں نے قومیت وعلاقائیت کی آگ زیادہ بڑھکالی تو بجھانا مشکل ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا شروع سے موقف ہے کہ تقسیم ِ ہند کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں کوحقِ خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیں کہ آیا پاکستان میں شامل ہونا ہے یا بھارت کی محکومی میں زندگی بسر کرنی ہے جموں و کشمیر کی بغاوت کے ایام میں بھارت نے وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کوحقِ خود ارادیت دے گا۔ اِس بارے اقوامِ متحدہ نے بھی ایک سے زائد بار قراردادیں پاس کیں مگر شملہ معاہدے نے سب کچھ بدل کررکھ دیا جس کے تحت پاک بھارت حکومتوں نے کسی عالمی فورم یا ثالث کے پاس لے جانے کی بجائے مسائل باہمی گفت وشنید سے حل کرنے پر اتفاق کیالیکن اِس معاہدے نے کشمیریوں کی منزل دورکردی، آٹھ عشروںکے بعدبھی حق خودارادیت کی جدوجہدبے نتیجہ ہے۔ اِ س دوران مقبوضہ کشمیر میںایک لاکھ سے زائد کشمیری جانیں قربان کر چکے۔ ہزاروں مائیں بہنیں اور بیٹیاں عصمتیں لُٹا چکیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری بھارت کی دور دراز جیلوں میں بند ہیں۔ کشمیری قیادت کوقتل کیا جارہا ہے ۔یہاں مسلمان ہونا ہی جُرم اور غداری ہے نماز وروزے سے روکا جاتاہے عرصہ حیات تنگ ہونے کے باوجود کشمیری صدقِ دل سے آج بھی پاک وطن کا حصہ بننے کی جدوجہد کررہے ہیں، پاکستان بھی اُن کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑرہا ہے، اپنے کشمیری بھائیوں کو آزاد کرانے کے لیے پاک فوج پانچ سے زائد چھوٹی وبڑی جنگیں لڑ چکیں۔ اِس دوران پاکستان دولخت ہو گیا مگر اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت پرثابت قدم ہے جس سے پریشان بھارت اب ریشہ دوانیوں پر اُتر آیا ہے۔ آزاد کشمیر میں سیاسی عدمِ استحکام ہو یا بدامنی ،دونوں صورتیں بھارت کے لیے پسندیدہ ہیں۔آزادکشمیر میں خود نمائی کی بیماری کا شکار عناصردانستہ یا نادانستہ طورپر بھارتی بیانیہ مضبوط کررہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی بھارت کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرتا ہے تو پاکستان سفارتی سطح پر آواز بلند کرتااورحالات سے دنیا کوآگاہ کرتاہے۔ اب بھی مقبوضہ کشمیر کی وادی گزشتہ چھ برس سے عملی طورپر ایک جیل ہے۔ ہر کشمیری دیدہ و نادیدہ آہنی شکنجوں میں جکڑا ہے۔ لوگوں کی زمینیں چھین کر کاروبار تباہ کیے جارہے ہیں ۔جنت نظیر وادی میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجی روزانہ کشمیریوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ اپنے کشمیری بھائیوں کو بھارتی پنجہ ٔ استبداد سے جلد نجات دلانے کے لیے پاکستان مسلسل کوشاں ہے۔ اب جبکہ پاکستان رواں بر س ماہ مئی میں بھارت کو فضائی اور زمینی لڑائی کے دوران شکست فاش دے چکا تو آزاد کشمیر میں کچھ خود نمائی کی بیماری میں مبتلا لوگ متحرک ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ شٹر ڈائون،پہیہ جام اوراحتجاجی ریلیوں سے عدمِ استحکام پیداکرناچاہتے ہیںتاکہ دو مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ اول،اگر مقبوضہ کشمیر میں امن نہیں تو آزادکشمیر بھی پُرامن نہیں اِس طرح یہ ثابت کرنا آسان ہوجائے گا کہ دونوں طرف کے کشمیری امن کے دشمن ہیں ۔دوم، جب پاکستان سے آزاد کشمیر ہی سنبھالا نہیں جا رہا تومقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو کیسے سنبھال سکتاہے ؟ لہٰذا کشمیر کی موجودہ صورتحال کو مستقل تسلیم کرنابہترہوگا ۔نیز اقوامِ متحدہ اپنی پاس کی گئی قراردادوں کو بُھلا دے، ایسا ہونا بہت خطرناک صورتحال ہو گی۔ اِس طرح ناصرف کشمیری ہمیشہ کے لیے اپنی منزل سے دور ہو جائیں گے بلکہ پاکستان بھی نامکمل رہے گا اور پانی کے سرچشموں پرہمیشہ کے لیے اُس کا کنٹرول ہو جائے گا۔ اس طرح جب چاہے گا آزاد کشمیر اور پاکستان کے پچیس کروڑ لوگوں کونہ صرف پیاسا مارسکے گابلکہ زراعت کو تباہ کرنے کے بھی قابل ہو جائے گا ۔
آزادکشمیر میں عدمِ استحکام اِس لیے بھی ناقابل قبول ہے کہ جب آزادکشمیر کے لوگوں کو بخوبی معلوم ہے کہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں خودنمائی کی بیماری میں مبتلاقوم پرست ہیں بی ایل اے ،ٹی ٹی پی جیسے فتنہ ہندوستان اور خوارج فعال ہیں جن کی مالی سرپرستی نہ صرف بھارت کررہا ہے بلکہ افغان سرزمین کے زریعے ہتھیاروتربیت بھی فراہم کررہا ہے جس کے ناقابلِ تردیدشواہد موجود ہیں۔ اِن حالات میں خود نمائی کی بیماری میں مبتلالوگوں کامتحرک ہوناسمجھ سے بالاتر ہے جب پورا پاکستان مہنگی بجلی استعمال کررہا ہے مگر آزادکشمیر میں بجلی اور آٹے کے نرخ کم ترین ہیں ۔آزادکشمیر میں تعلیم وصحت کی سہولتیں پورے ملک سے بہتر ہیں ۔تیس فیصدریاستی آبادی کوسرکاری ملازمتیں حاصل ہیں۔ یہ شرح ملک کے تمام علاقوں سے زیادہ ہے۔ اِس کے باوجودٹیکس نہ دینے کی باتیں قابلِ ستائش نہیں۔ ارے بھئی جب آپ ٹیکس ہی نہیں دیں گے تو تعلیم وصحت ،ذرائع آمدو رفت کے لیے وسائل کیسے حاصل ہوں گے؟ خود نمائی کی بیماری میں مبتلا لوگوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے لوگ آزاد کشمیر کے وسائل ہڑپ کررہے ہیں جس میں کوئی صداقت نہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ امسال پاکستان نے اضافی اکیس ارب آزاد کشمیر حکومت کو دیے ہیںجہاں تک مہاجرین نشستوں اور کوٹہ سسٹم کا تعلق ہے تو اِن سے کشمیری ہی مستفیدہورہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کوئی پاکستانی جائید ادتک نہیں خرید سکتا مگر بھارت میں ایسی کوئی پابندی نہیں۔ وہ تو کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کے لیے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ تک ختم کر چکا ہے ۔لہٰذا خود نمائی کی بیماری کا شکارہوش کے ناخن لیںاوراغیار کی سازشوں میں آلہ کار نہ بنیں ہر گز نہ بھولیں کہ بھارتی بھیڑیے مسلسل اِس تاک میں ہیں کہ آزاد کشمیر کو ہڑپ کر لیں۔ اِس لیے اپنے محدود مفاد کے لیے آزاد خطہ کو سیاسی عدمِ استحکام کی پاتال میں دھکیلنے سے گریز کیا جائے تاکہ پاکستان یکسوئی سے کشمیری بھائیوں کا مقدمہ لڑ سکے۔ اِدارے بھی غیرضروری نرمی کے بجائے ریاستی امن کوہرحال میں یقینی بنائیں تاکہ دشمن کو منفی پراپیگنڈے کا موقع نہ ملے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: خود نمائی کی بیماری میں مبتلا کشمیری بھائیوں کہ پاکستان لوگوں کو کشمیر کے ا س لیے کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی