data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

محکمہ موسمیات نے جنوب مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ہوا کے کم دباؤ سے متعلق دوسری ٹراپیکل سائیکلون (ٹی سی) واچ الرٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ موسمی دباؤ بتدریج سست رفتاری کے ساتھ شمال اور شمال مشرقی سمت میں منتقل ہوا ہے۔ تازہ ترین مشاہدات کے مطابق یہ سسٹم اس وقت کراچی کے جنوب مشرق میں تقریباً 1690 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، جب کہ بھارت کے علاقے لکش دیپ کے مغرب اور جنوب مغرب میں تقریباً 570 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق، ابتدائی ماڈلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران یہ دباؤ مزید شمال مشرقی سمت میں بڑھنے کا امکان ہے، تاہم فی الحال اس سے پاکستان کے کسی ساحلی علاقے کو براہِ راست کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں کسی طوفان کی شدت اختیار کرنے کا امکان تو موجود ہے، لیکن اس کا رخ پاکستان کے ساحلوں کی طرف نہیں بلکہ بھارتی ساحلی پٹی کی جانب رہنے کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی، سندھ یا بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے فی الحال کسی قسم کی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود سائیکلون وارننگ سینٹر کراچی کی جانب سے اس سسٹم کی باقاعدہ اور مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اگر موسمی حالات میں کوئی غیر متوقع تبدیلی واقع ہو تو بروقت انتباہ جاری کیا جا سکے۔

 

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی