اقوام متحدہ کی امن فوج نے اسرائیلی ڈرون مارگرایا
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیروت : اقوام متحدہ کی امن فوج نے اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کے امن مشن (یونیفیل) کے اہلکاروں کی جانب سے ایک اسرائیلی ڈرون کو اس وقت مار گرایاجب اسرائیلی ڈرون نے ان کی ٹیم کے اوپر ’جارحانہ انداز‘ میں پرواز کی۔
یونیفیل کےبیان میں کہا گیا کہ ڈرون کی پرواز کے بعد امن فوج کے اہلکاروں نے ’دفاعی کارروائی کرتے ہوئے ڈرون کو ناکارہ بنا دیا‘۔ واقعے کے فوراً بعد ایک اور اسرائیلی ڈرون نے امن مشن کے قریب گرینیڈ پھینکا جبکہ ایک اسرائیلی ٹینک نے ان کی جانب فائرنگ کی۔ اس حملے میں امن فوج کا کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ ڈرون جنوبی لبنان کے سرحدی قصبے کفرکلا میں اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے قریب موجود تھا اورمعمول کی پرواز کررہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی ڈرون اقوام متحدہ امن فوج
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔