Jasarat News:
2026-06-03@03:20:30 GMT

مینار پاکستان: ’’بدل دو نظام‘‘

اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مینار پاکستان اس جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں 23 مارچ 1940ء کو قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر صدارت آ ل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں ’’قرار داد لاہور‘‘ منظور کی گئی۔ 329 ایکٹر پر مشتمل اس قطعہ اراضی کو ’’منٹوپارک‘‘ کہا جاتا تھا جسے بعد ازاں گریٹر اقبال پارک کا نام دیا گیا۔ گریٹر اقبال پارک نے جلسہ گاہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔ سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام سمیت ہر بڑی قابل ذکر جماعت نے مینار پاکستان کے سائے میں اجتماع کے انعقاد کو ’’سیاسی قوت‘‘ کے مظاہرے کے لیے استعمال کیا۔ جماعت اسلامی کے قیام کے بعد21 نومبر سے 23 نومبر 2025ء تک ہونے والا 16 واں اجتماع ہے جس میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد نے شرکت کی۔ قبل ازیں 11 سال قبل 2014ء میں مینار پاکستان کے سائے تلے اجتماع عام منعقد ہوا تھا جس میں مجھے بھی شرکت کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کا پہلا اجتماع عام 6 سے 8 مئی 1949ء کو لاہور ہی میں منعقد ہوا تھا۔ اب تک لاہور میں جماعت اسلامی کا یہ چھٹا اجتماع عام ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی مینار پاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے والے اجتماعات کو سب سے بڑے اجتماعات ہونے کے دعوے کرتی رہی ہیں، یہ اجتماعات چند گھنٹوں پر مشتمل ہوتے تھے لیکن جماعت اسلامی کا حالیہ اجتماع عام ان اجتماعات سے نہ صرف بڑا اور تین دن پر محیط تھا۔ اگرچہ اس سیاسی میلے کے ’’دولہا‘‘ حافظ نعیم الرحمن ہیں جن کی امیج بلڈنگ میں اجتماع عام نے بڑا کردار ادا کیا ہے تاہم اجتماع عام کے ساڑھے تین لاکھ سے زائد شرکاء کے قیام و طعام کا خوش اسلوبی سے انتظام کرنے کا کریڈٹ لیاقت بلوچ اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ میری لیاقت بلوچ سے زمانہ طالب علمی سے دوستی ہے میں نے ان کو اسلامی جمعیت طلبہ میں بہت قریب سے دیکھا ہے وہ بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں تنظیمی امور کے ماہر ہیں یہی وجہ ہے کہ انہیں اجتماع عام کا ناظم مقرر کیا گیا، انہوں نے یہ فریضہ دو اڑھائی ماہ کی شبانہ روز محنت سے ادا کیا۔ جب شرکاء کی تعداد بڑھ گئی تو منتظمین نے ان کے قیام کے لیے بادشاہی مسجد کے وسیع و عریض صحن کو بھی استعمال کیا جو جماعت اسلامی کے حکومت پنجاب سے خوشگوار تعلقات اور سیاست کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ اجتماع عام میں ہزاروں خواتین کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جماعت اسلامی کا خواتین میں وسیع حلقہ ہے میں نے کسی جماعت کے اجتماع میں باپردہ خواتین کی اتنی بڑی تعداد نہیں دیکھی۔ جماعت اسلامی کی سیاسی قوت کے کسی مظاہرے میں خواتین کی اس قدر تعداد کی شرکت میرے لیے باعث حیرت تھی۔ اجتماع کی سب سے اہم بات برطانوی نو مسلم خاتون جو سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خواہر نسبتی ہیں کی شرکت ہے، ان کا خطاب اجتماع عام کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ گریٹر اقبال پارک میں نئی تاریخ لکھی جا رہی تھی دنیا کے 45 ممالک سے تقریباً 120 سرکردہ رہنمائوں نے اجتماع عام میں شرکت کی جبکہ 35 ممالک سے 230 پاکستانیوں نے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی اگر اسے بین الاقوامی نوعیت کا اجتماع کہا جائے تو مبالغہ آرائی نہیں ہوگی۔ دنیا بھر کی اسلامی تحاریک کی نمائندگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ جماعت اسلامی کو پوری دنیا میں مسلمانانِ پاکستان کی نمائندہ جماعت تصور کیا جاتا ہے۔ منٹو پارک میں 23 مارچ 1940ء کو کم و بیش ایک لاکھ افراد کے اجتماع میں منظور کی گئی قرار داد لاہور میں قیام پاکستان کے خدو خال بیان کیے گئے تھے جماعت اسلامی نے دوسری بار مینار پاکستان کے سائے تلے بڑا اجتماع کر کے ان مقاصد کے حصول کے لیے عزم کا اعادہ کیا جن کے حصول کا 85 سال قبل مسلمانان ہند سے وعدہ کیا گیا تھا۔ اب کی بار جماعت اسلامی نے ’’نظام کی تبدیلی‘‘ کا نعرہ لگایا ہے اس نعرے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اجتماع کے شرکاء کی بڑھتی تعداد نے ایک مرحلے پر تو پریشان کر دیا تھا۔ سیدابولاعلیٰ مودودیؒ نے 1940 میں گنتی کے چند ساتھیوں کے ہمراہ جس جماعت کی بنیاد رکھی تھی وہ آج ایک تناور درخت بن گئی ہے۔ یہ جماعت اسلامی کا ہی حسن ہے اس میں موجودہ اور سابق امیر ہاتھوں میں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ایک اسٹیج پر کھڑے ہوں اگر اجتماع عام کو حافظ نعیم الرحمن کی تقریب رونمائی کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

جس میں سید مودودیؒ، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، اور سراج الحق کی مسند پر حافظ نعیم کو بٹھا کر قوم کو موجودہ نظام کوتبدیل کرنے کا نعرہ دیا گیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کی عینک کی بولی لگی تو ایک صاحب حیثیت شخص نے ایک کروڑ 10 لاکھ میں خرید لی اسی طرح اجتماع کے آخر میں عطیات اکھٹے کرنے کا اعلان ہوا تو چند منٹوں میں 10 کروڑ روپے اکھٹے ہو گئے۔ ’’بدل دو نظام‘‘ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں یہ قوم کے دل کی آواز ہے جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا جماعت اسلامی نے پرو گرام بنایا ہے۔ یہ اجتماع عام اس پروگرام کی تکمیل کا آغاز ہے۔ اجتماع عام میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت اس بات کی غمازی کرتی ہے جماعت اسلامی نے نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کرنے کا پرو گرام بنایا ہے اور جماعت اسلامی اپنے اوپر ملائوں کی جماعت کی چھاپ ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ اجتماع ایک تحریک کی شکل اختیار کرے گا جس کی کوکھ سے ایک بار پھر پورے ملک میں نظام کی تبدیلی کی امید جنم لے گی۔ جماعت اسلامی کے تین روزہ اجتماع عام میں بین الاقوامی اسلامی تحاریک کا لاہور میں ہیڈ کوارٹر بنانے کا فیصلہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ تنظیم پوری دنیا میں اسلامی تحاریک کو منظم کرے گی اور مختلف ممالک میں اسلامی تحاریک کو درپیش رکاوٹیں دور کرے گی۔ اجتماع میں مختلف سیشن ہوئے جن میں حافظ نعیم الرحمن کا خطاب جماعت اسلامی کے کارکنوں کے لیے انسپائرنگ تھا ان کا انداز تخاطب جارحانہ ہے، جماعت اسلامی کے کارکنوں کو حافظ نعیم الرحمن کی شکل میں نیا قاضی حسین احمد مل گیا ہے۔ (بشکریہ: روزنامہ جنگ)

نواز رضا سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مینار پاکستان کے سائے حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی نے جماعت اسلامی کا جماعت اسلامی کے اسلامی تحاریک یہ اجتماع کرنے کا اس بات کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی