سی آئی اے نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کا روسی دعویٰ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
واشنگٹن:امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے روس کی جانب سے صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر یوکرینی ڈرون حملے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
سی آئی اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین نے کسی بھی ڈرون حملے میں روسی صدر کی رہائش گاہ کو نشانہ نہیں بنایا،سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے اس معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران ڈائریکٹر سی آئی اے نے واضح کیا کہ روس کی جانب سے کیے گئے دعوؤں میں کوئی ٹھوس ثبوت یا سچائی نظر نہیں آتی۔
ذرائع کے مطابق بریفنگ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی رویے پر ناراضی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ایسے بے بنیاد دعوے صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ روس نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین نے ڈرون حملے کے ذریعے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ روسی حکام نے اس حملے سے متعلق ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی، امریکی خفیہ ادارے کی تازہ رپورٹ نے ان دعوؤں کو رد کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کی رہائش گاہ سی آئی اے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔