وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی کرنے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, January 2026 GMT
وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں شیڈول بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی کرنے کی منظوری دیدی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا مختصر اجلاس ہوا جس میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 3 دسمبر اور 30 دسمبر کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق نئی قانون سازی پر غور کیا گیا جبکہ چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے وفاقی کابینہ کو بلدیاتی انتخابات سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے چیف کمشنر اسلام آباد کی بریفنگ کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات پھر ملتوی کرنے کی منظوری دیدی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ کابینہ نے اسلام آباد میں پنجاب طرز کے بلدیاتی انتخابات کی قانون سازی کی بھی منظوری دی ہے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیتی انتخابات کیلئے 15 فروری کی تاریخ مقرر کی تھی جبکہ 16 فروری سے 19 فروری تک نتائج مرتب کیے جانے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلدیاتی انتخابات اسلام آباد میں نے اسلام آباد وفاقی کابینہ کابینہ نے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔