data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے غزہ کے تنازع میں ملک کے موقف کو بالکل واضح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آذربائیجان کسی بھی بین الاقوامی امن مشن یا فوجی آپریشن میں حصہ نہیں لے گا۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان کا اپنی سرحدوں سے باہر، بشمول غزہ، کسی بھی عسکری مداخلت یا امن مشن میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے رابطے کے بعد آذربائیجان نے فوری عملی قدم اٹھانے کے بجائے امریکہ کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا، جس میں بیس سوالات شامل تھے تاکہ تمام پہلوؤں پر مکمل معلومات حاصل کی جا سکیں۔

آذربائیجان کے صدر نے مزید کہا کہ تاہم، سوالنامے کے جوابات موصول ہونے کے باوجود آذربائیجان نے اپنی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی مکمل طور پر قومی مفادات، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے اصولوں کے تحت ترتیب دی جاتی ہے اور یہی اصول بیرونِ ملک فوجی مداخلت سے گریز کی بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی سرحدوں سے باہر کسی بھی جنگی کارروائی میں شامل ہونے پر بالکل غور نہیں کر رہے۔

ماہرین کے مطابق صدر علیوف کا یہ بیان غزہ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آذربائیجان خطے سے باہر جاری عسکری تنازعات یا بین الاقوامی امن مشنز میں براہ راست حصہ نہیں لے گا، اور اپنی پالیسی میں قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو ترجیح دے گا۔

یہ اعلان آذربائیجان کی مستقل غیر مداخلتی پالیسی اور خطے میں غیر جانبداری کے اصول کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو عالمی سطح پر ملک کی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ آذربائیجان الہام علیوف کسی بھی

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور