چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکیورٹی یونٹ قائم کیا جارہا ہے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے ایک خصوصی حفاظتی یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔
یہ اعلان وزیرِ داخلہ نے چین کے وزیر برائے عوامی سیکیورٹی وانگ ژیاؤ ہونگ سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات چین کے وزارتِ پبلک سیکیورٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہوئی، جہاں نقوی کو شاندار خیرمقدم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر داخلہ محسن نقوی کا شنگھائی میں اسپیشل پولیس فورس کا دورہ، تعاون بڑھانے پر زور
ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے وزراء نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اور تیز رفتار ردعمل کے نظام کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جس میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے تربیتی پروگراموں کے توسیعی اقدامات شامل ہیں۔ وانگ ژیاؤ ہونگ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور داخلی سکیورٹی کے اقدامات کو سراہا۔
وزیرِ داخلہ نے چینی وزیر کو پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا، جس پر چینی وزیر نے اطمینان کا اظہار کیا۔ محسن نقوی نے کہا، ‘چینی شہریوں اور باہمی دلچسپی کے منصوبوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔’
یہ بھی پڑھیے: محسن نقوی کا لاہور ائیرپورٹ کا اچانک دورہ، امیگریشن عمل کا جائزہ
ملاقات کے دوران سائبر جرائم کی روک تھام میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پاکستان نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کی استعداد بڑھانے کے لیے چینی اداروں کی مدد سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اور چینی اے آئی ٹیکنالوجیز دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس ہر 3 ماہ بعد اور وزارتی سطح پر اجلاس سالانہ منعقد کیے جائیں گے۔ نقوی نے چینی وزیر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جبکہ وانگ ژیاؤ ہونگ نے انہیں سیکیورٹی فورم میں شرکت کی دعوت دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین سیکیورٹی محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین سیکیورٹی محسن نقوی چینی شہریوں محسن نقوی کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔