ایران میں مظاہرے بے قابو، ملک بھر میں انٹرنیٹ کا مکمل بلیک آؤٹ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 January, 2026 سب نیوز

تہران (آئی پی ایس) ایران کی اسلامی جمہوریہ ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں معاشی تباہی نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔

انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کی شام سے ایران میں مکمل قومی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ ہے، جو احتجاج کو روکنے کی حکومت کی آخری کوشش معلوم ہوتی ہے۔

یہ بلیک آؤٹ احتجاج کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی آیا جب تہران سمیت ملک بھر کے شہروں میں لاکھوں افراد نے سڑکیں بلاک کر دیں اور نظام کے خلاف نعرے لگائے۔

قطری خبر رساں ادارے کے رپورٹر توحید اسدی نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کی رات 8 بجے سے دارالحکومت کے متعدد محلے سڑکوں پر نکل آئے۔

شہر کے مرکزی علاقوں سے گزرتے ہوئے کئی سڑکیں بلاک تھیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی قیادت کے خلاف سخت نعرے سنائی دے رہے تھے۔

اسدی نے مزید کہا کہ معاشی دباؤ نے عوامی اعتماد کو ختم کر دیا ہے، خاص طور پر مزدور اور نچلی متوسط طبقے اب روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

احتجاج دسمبر کے آخر سے جاری ہیں، جو ایرانی ریال کی شدید گراوٹ اور اشیاء کی آسمان چھوتی قیمتوں پر شروع ہوئے۔ اب یہ معاشی مطالبات سے آگے نکل کر سیاسی انقلاب کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے اب تک کم از کم 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ہزاروں گرفتار کیے گئے۔

تہران، تبریز، اصفہان، مشهد اور کرمان سمیت تمام 31 صوبوں میں مظاہرے پھیل چکے ہیں، اور بازاروں میں تاجر ہڑتال پر ہیں۔

حکومت کی جانب سے مخلوط پیغامات آ رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے سیکیورٹی فورسز کو انتہائی تحمل کا حکم دیا ہے مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی کی پراپرٹی پر قبضہ کرلیا گیا اسلام آباد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی کی پراپرٹی پر قبضہ کرلیا گیا پاکستانی سفیررخسانہ افضال کی تھائی لینڈ میں سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین نیروت یوپاکدی سے ملاقات چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود کی لندن میں ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل سے ملاقات ، اوورسیز پاکستانیز یوتھ کنونشن پر گفتگو پنجاب میں جعلی مقدمات کا راستہ بند، ضلعی عدالتوں میں بائیو میٹرک لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری اسلام آباد،جی 12 میں بچہ سیوریج کے پانی میں ڈوب کر جاں بحق اسلام آباد میں درختوں کی بے دریغ کٹائی پر وزیراعظم برہم،نوٹس لے لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے