وکیل خواجہ شمس الاسلام پرحملہ کیس سیشن عدالت منتقل کرنے کی درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-02-9
کراچی (اسٹاف رپورٹر)انسداد دہشت گردی عدالت میںنومبر 2024 میں وکیل خواجہ شمس الاسلام و دیگر پر حملے کا کیس ،عدالت نے کیس سیشن عدالت منتقل کرنے کی درخواست منظور کرلی ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ فریقین کے درمیان ذاتی دشمنی کی بنیاد پر درج مقدمات انسداد دہشت گردی عدالت میں نہیں چلائے جا سکتے ،عدالت نے کیس سیشن عدالت جنوبی بھیجنے کا حکم دیا،کیس کا تمام ریکارڈ سیشن کورٹ جنوبی منتقل کیا جائے ،مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ 14 نومبر 2024 کو ڈیفنس کے علاقے میں عشاء کی نماز پڑھ کر باہر نکلے تو ملزمان نے حملہ کردیا ،ملزم عمران گل و دیگر نے ہمارے سنئیر وکیل خواجہ شمس الاسلام کو نیچا گرا کر دائیں بائیں فائرنگ کی،ملزمان خواجہ شمس الاسلام کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فرار ہوگیے تھے ،پولیس کے مطابق کیس میں عمران و دیگر کو نامزد کیا گیا،ملزمان کے خلاف خالد اقبال ایڈووکیٹ کی مدعیت میں کلفٹن تھانے میں مقدمہ درج ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ شمس الاسلام
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔