ایمان مزاری، ہادی علی کیخلاف 2025ء کا مقدمہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
فائل فوٹو
انسانی حقوق کےلیے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف جولائی 2025ء کا ایک مقدمہ سامنے آیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں دائر کردیں، جن میں ہنگامی بنیاد پر سماعت کی استدعا کی گئی۔
سیکریٹری ٹو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس جاچکے ہیں، آج سماعت ممکن نہیں۔
اس موقع پر صدر اسلام آباد ہائیکورٹ واجد گیلانی ایمان مزار اور ہادی علی چٹھہ کو اپنے آفس لے گئے اور جوڑے سے کہا کہ آپ میرے آفس میں بیٹھیں، یہاں سے آپ کو کوئی گرفتار نہیں کرے گا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف پریس کلب کے باہر احتجاج پر مقدمہ درج کیا گیا تھا جبکہ جوڑے کے خلاف 26 جولائی 2025ء میں تھانہ کوہسار میں بھی ایف آئی آر درج ہے۔
جوڑے کے خلاف درج مقدمے میں دہشت گردی، اقدام قتل، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر دفعات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری ہادی علی کے خلاف
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔