پنجاب اسمبلی کے 36 معطل ارکان کی رکنیت بحال
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سٹی 42: پنجاب اسمبلی کے 36 معطل ارکان کی رکنیت بحال ہوگئی ۔
اپوزیشن اور حکومت کے 36 ارکان اسمبلی نے گوشوارے جمع کروادیئے۔الیکشن کمیشن نے گوشوارے جمع کروانے پر ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال کر دی۔50 ارکان کی رکنیت گوشوارے جمع نہ کروانے پر معطل کی گئی تھی۔14 ارکان پنجاب اسمبلی نے تاحال گوشوارے جمع نہیں کروائے۔
اراکین پنجاب اسمبلی مہر محمد نواز، ملک غلام حبیب اعوان کی رکنیت بحال ہوگئی ۔ رانا محمد سلیم، سید اعجاز حسین بخاری، چوہدری نعیم اعجاز کی بھی رکنیت بحال کردی گئی ۔ چوہدری اعجاز احمد، محمد نواز چوہان، عارف محمود گل، جاوید نیاز منج ۔رانا طاہر اقبال،رانا سکندر حیات،میاں محمد منیر، عمران اکرم،محمد عدنان ڈوگر، سردار پرویز اقبال گورچانی، تاشفین صفدر ،ایمانوئیل آتھر، سردار محمد عاصم شیر میکن،امتیاز محمود کی بھی رکنیت بحال ہوگئی ۔
علی حسین خان، جعفر علی ہوچا، محمد طاہر پرویز، میاں محمد آصف ،رکنیت بحال ہونے والوں میں اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض بھی شامل ہیں ۔
کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، سردار شیر افغان گورچانی،محمد عون حمید، روبینہ نذیر، منصور اعظم، محمد آصف ملک، محمد کاشف ،علی عباس، محمد علی رضا خان خاکوانی، صلاح الدین خان کی بھی رکنیت بحال کر دی گئی
شام میں بعث انقلاب کے بانی رفعت الاسد انتقال کر گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کی رکنیت بحال پنجاب اسمبلی گوشوارے جمع
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔