پاکستان کا ٹرمپ کے "غزہ بورڈ آف پیس" میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے غزہ میں دیرپا امن کے حصول کی خاطر بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے۔ پاکستان امید کرتا ہے کہ اس فریم ورک کی تشکیل سے مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے غزہ میں دیرپا امن کے حصول کی خاطر بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے۔ پاکستان امید کرتا ہے کہ اس فریم ورک کی تشکیل سے مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔ ترجمان دفترخارجہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا، بورڈ آف پیس کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپورحمایت کا اعادہ بھی کیا۔
ٹرمپ کا غزہ بورڈ آف پیس کیا ہے؟
غزہ بورڈ آف پیس امریکی صدر ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن منصوبے کے 20 نکاتی پروگرام کا مرکزی حصہ ہے۔ امریکی صدر نے اسے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹرمپ اقوام متحدہ کا متبادل ادارہ وجود میں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد ابتدائی طور پر غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور وہاں تعمیرِ نو کے عمل کی نگرانی کرنا بتایا گیا ہے، لیکن اس کے عزائم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بظاہر بورڈ کے قیام کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے بعد کے معاملات، جیسے سیکیورٹی کی بحالی، انتظامی امور کی نگرانی، اور تعمیرِ نو کے لیے فنڈز کا انتظام کرنا ہے۔ ٹرمپ نے اسے اقوامِ متحدہ (UN) کے ایک متبادل یا زیادہ مؤثر ادارے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے زیادہ واضح اقدامات کر سکے۔
اس بورڈ کا چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ خود تاحیات چیئرمین ہوں گے، وہ صدر کے عہدے سے فارغ ہونے کے باؤجود بھی بورڈ کے چیئرمین کے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بورڈ میں شامل ہونے کیلئے دنیا بھر کے تقریباً 60 رہنماؤں کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے یہ اس اس بورڈ کی مستقل رکنیت کیلئے ممالک سے 1 ارب ڈالر کی رقم طلب کی گئی ہے، جبکہ بغیر فیس کے رکنیت صرف 3 سال کے لیے ہو گی۔ بورڈ کے ایگزیکٹو حصے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹولی بلیئر، ورلڈ بنک کے صدر اجے بانگا، ٹرمپ کے داماد اور سابق مشیر جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک تقریباً 25 ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ 20 سے زیادہ، بلکہ ممکنہ طور پر 25 عالمی رہنماؤں نے اس منصوبے کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے مجموعی طور پر 60 ممالک کو اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
اب تک جن ممالک نے بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کی ہے ان میں پاکستان، عرب امارات، اسرائیل،بحرین، مصر، مراکش، قطر شامل ہیں جبکہ دیگر ممالک میں ہنگری، کینیڈا، ترکیہ، آذربائیجان، قازقستان، ازبکستان، ویتنام، کوسوو اور بیلاروس بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا نے شمولیت کی دعوت تو قبول کی ہے لیکن فیس دینے سے انکار کیا ہے۔ بعض ممالک نے ٹرمپ کی دعوت کو مسترد بھی کیا ہے ان میں فرانس اور ناورے شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے اسے بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دے کر مسترد کیا ہے۔ بھارت اور چین نے تاحال اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا، یوکرین نے اس بورڈ میں روس کی موجودگی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: میں شامل ہونے کی دعوت غزہ بورڈ آف پیس بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت جنگ بندی کے پاکستان نے شامل ہیں کے مطابق ممالک نے ٹرمپ کے کے لیے کیا ہے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔